انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 13

انوار العلوم جلد 25 13 سیر روحانی (8) مثلاً ایک شخص نے دنیوی اخبار خریدنا ہے وہ اگر "سول" خریدے "ملت" خریدے المصلح" خریدے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ اس کے پیسہ کے ذریعہ ایسے خیالات کی اشاعت ہو گی جن میں میانہ روی پائی جائے گی، جن میں امن پسندی پائی جائے گی، جن میں حکومت کے ساتھ تعاون پایا جائے گا۔لیکن اگر وہ " تسنیم " خرید ناشروع کر دیں یا اور ایسے ہی اخبار خرید نے شروع کر دیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ اس روپیہ کے ساتھ گورنمنٹ کے خلاف مضمون لکھے جائیں گے ، اسلامی جمہوریت کے خلاف مضمون لکھے جائیں گے ، جماعت احمدیہ کے خلاف مضمون لکھے جائیں گے۔تو کیا فائدہ ہے ایسے پرچہ کو روپیہ دینے کا جس کے ذریعہ سے ہمارا ملک کمزور ہو ، ہماری حکومت کمزور ہو ، ہم خود کمزور ہوں۔یہ تو اول درجہ کی حماقت ہے۔اگر کوئی احمدی ایسا کرتا ہے اور وہ کہتا ہے مجھے وہ پرچہ زیادہ دلچسپ نظر آتا ہے تو ہم بھی اُس کو یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ ہمیں بھی تمہاری حماقت بڑی دلچسپ نظر آتی ہے۔تمہاری مثال بالکل وہی ہے جیسا کہ چیتا اپنی زبان چاٹ چاٹ کر کھا گیا تھا۔تم زبان کے چسکے لیتے رہو اور اپنی موت کے وارنٹ پر دستخط کرتے رہو۔تم اگر ایسے احمق ہو گئے ہو تو تمہاری نجات کا کون ذمہ دار ہو سکتا ہے تم تو اپنی ہلاکت کو آپ چاہتے ہو۔المصلح خریدیں پس جو دنیوی اخبار لینا چاہیں اور لازما لیے پڑتے ہیں اس کے لئے میں دوستوں کو کہوں گا کہ جس علاقہ میں "المصلح " جاتا ہے وہ "المصلح" خرید ہیں۔مثلا سندھ کا علاقہ ہے ، اسی طرح ملتان تک کا علاقہ ہے ان کو چاہیے کہ اس کی خریداری کریں۔وہ نہایت عمدگی سے خبریں دیتے ہیں۔کبھی کبھی کمزوری بھی آ جاتی ہے کیونکہ وہ زیادہ منظم اخبار نہیں ہے۔نہ اتنی طاقت والا ہے کہ اس کے بہت سارے ایڈیٹر ہوں۔لیکن عام طور پر میں نے دیکھا ہے کہ وہ خبروں میں قریباً ادھر کے اخبارات کے برابر برابر پہنچ جاتا ہے اور کراچی اور حیدر آباد اور کوئٹہ وغیرہ میں تو یقیناًوہ "سول" اور "الفضل" وغیرہ سے بہت پہلے خبریں دے گا۔اسی طرح "سول" ہے "ملت" ہے " لاہور" ہے جو ہفتہ واری ہے۔جنہوں نے ہفتہ واری خرید نا ہو وہ خواہ مخواہ