انوارالعلوم (جلد 25) — Page 250
انوار العلوم جلد 25 250 سیر روحانی نمبر (9) کھیت میں ڈالی جائے۔اسی طرح جو نباتاتی کھا د ہے اس کا بھی یہ طریق ہے کہ بونے کے بعد جس وقت وہ اتنی بڑی ہو جائے کہ ابھی اس کو پھلی نہ لگے تو اس میں گہر ا ہل چلا دیا جائے۔مثلاً گوارہ ہے، جنتر ہے یا سن ہے۔یہ اچھی کھاد والی فصلیں ہیں۔جس وقت یہ کچھ اونچی ہو جائیں، بالکل کچھی نہ رہیں، بس نیم پختہ ہو جائیں تو ان میں گہر اہل چلایا جائے اور اِس کو گرادیا جائے۔پھر اس کے اوپر خوب مٹی ڈالی جائے تاکہ وہ دفن ہو جائے۔پھر اس کو پانی دیا جائے یہاں تک کہ وہ اندر ہی گل جائے۔اس طرح پانچ چھ مہینے کے بعد وہ اعلیٰ درجہ کی کھاد ہو جاتی ہے بشر طیکہ اس کے اندر کچھ تھوڑی سی جانور کی کھاد بھی ملالی جائے۔پھر تو وہ بہت زیادہ قیمتی ہو جاتی ہے۔سائنس دانوں کا تجربہ ہے کہ جانور کی کھاد چھ سال تک اثر کرتی ہے اور نباتاتی کھاد کوئی تین فصلوں تک اثر کرتی ہے اس کے بعد بے کار ہو جاتی ہے۔اس کھاد میں جو پیداوار ہوتی ہے وہ بڑی اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے۔پس وہ افسر جائیں اور جا کر ان کو طریق بتائیں اور پھر ان کی نگرانی کریں۔جس طرح چندے کی وصولی کے لئے انسپکٹر جاتے ہیں اسی طرح زراعت دیکھنے کے لئے بھی انسپکٹر جانے چاہئیں۔جو دیکھیں کہ احمدی زمیندار جس نے وعدہ کیا تھا اس نے اپنے وعدہ کے مطابق عمل کیا ہے یا نہیں۔یا ہمارے سندھ کے احمدی زمینداروں کی طرح جب موقع آتا ہے تو برسیم کاٹ کے جانوروں کو ڈال دیتے ہیں اور اس کا جو مڈھ ہوتا ہے یعنی بے کار لکڑی اُس پر ہل چلا دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہاں جی ! ہم نے برسیم کی تھی حالانکہ " برسیم کی" کے صرف اتنے معنی ہوتے ہیں کہ برسیم ہوئی تھی پھر ہم اس کو لے گئے تھے اور اپنے جانوروں کو کھلا دیا تھا۔تو اگر ایک نظارت زراعت ہو تو میں سمجھتاہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے زمینداروں کی اخلاقی حالت بھی اچھی ہو جائے گی، ان کی مالی حالت بھی اچھی ہو جائے گی اور سلسلہ کی مالی حالت بھی اچھی ہو جائے گی۔آخر ہماری جماعت میں سب سے زیادہ زمیندار ہیں جو توے فیصدی کے قریب ہیں۔اگر توے فیصدی کی مالی حالت کمزور ہوگی تو ہمیں روپیہ کہاں سے ملنا ہے۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ سنایا ہے کہ ایک دفعہ ایک عورت جو ہمارے مزارعوں