انوارالعلوم (جلد 25) — Page 249
انوار العلوم جلد 25 249 سیر روحانی نمبر (9) ہوتے ہوئے سیالکوٹ کے زمینداروں کی طرف توجہ نہ کی جائے تو کتنی افسوس کی بات ہے۔لیکن اس کے بعد پھر لائلپور اور سر گو دھا وغیرہ میں کوشش کی جائے۔میں نے بتایا ہے کہ دوسرے ملکوں میں چودہ چودہ سو، پندرہ پندرہ سو روپے فی ایکٹر کم سے کم پیداوار کی جارہی ہے۔یہ تو خود ایک احمدی نے مجھے بتایا لیکن اس کے علاوہ ایک وفد جاپان گیا تھا جس میں دولتانہ صاحب بھی تھے۔وہاں سے واپس آ کے اس وفد کے ایک ممبر نے کہا کہ جاپان کی دو ہزار روپیہ فی ایکڑ آمد ہے لیکن دولتانہ صاحب نے کہا نہیں چھ ہزار آمد ہے وہاں تین تین سو من چاول پیدا ہو جاتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہاں فصل میں کھاد اچھی ڈالی جاتی ہے۔حیوانی کھاد بھی یعنی گوبر بھی اور نباتاتی کھاد بھی۔مگر ہمارے ملک میں گوبر کی کھاد نہیں ڈالی جاتی گوبر کا گند ڈالا جاتا ہے۔گوبر کی کھاد کا اصول یہ ہے کہ ایک بڑا سا گڑھا کھودا جائے جو کم سے کم چھ فٹ گہر ا ہو۔اصل میں تو پندرہ بیس فٹ گہرا ہونا چاہئے۔اس کے نیچے شاخوں کی یا پتوں کی یا لکڑی کی راکھ ڈالی جائے۔اس کے اوپر گوبر ڈالا جائے۔اس گوبر پر پھر ایک تہہ آدھ انچ راکھ کی ڈالی جائے جو درختوں کی لکڑی کی راکھ ہو یا پتوں کی راکھ ہو۔اس پر پھر دو فٹ تک گوبر ڈالا جائے اور پھر ایک آدھ انچ کی یا ایک انچ کی راکھ کی تہہ دی جائے۔پھر گوبر ڈالا جائے۔اور پھر اس کے اوپر ایک راکھ کی تہہ دی جائے۔پھر گوبر ڈالا جائے۔اس طرح تین چار لیئرز (LAYERS) میں (ایک لیئر تین تین چار چار فٹ کی ہو) اسے سطح زمین تک لائیں۔اُس کے بعد اس کو پانی دے دیں اور اُسے بند کر دیں اور پندرہ ہیں دن پڑا رہنے دیں۔پندرہ بیس دن کے بعد کھول کر پھر پانی دے دیں پھر کچھ مدت تک پڑا رہنے دیں پھر کھول کر پانی دے دیں۔اس طرح تین مہینے تک اس کو زمین میں دفن رہنے دیں مگر اوپر مٹی پڑی ہوئی ہو تا کہ اس میں سے ایمو نیا ضائع نہ ہو۔کھاد کا جو سب سے اچھا حصہ ہوتا ہے وہ ایمونیا ہوتا ہے۔یہ جو مصنوعی کھاد آتی ہے یہ بھی ایمونیم سلفیٹ ہی ہوتی ہے خدا تعالیٰ نے جانور کے پیٹ میں کچھ ایسے مادے رکھے ہیں کہ وہ گھاس کھا کے جو گوہر پھینکتا ہے اس سے ایمونیا کافی مقدار میں بنتا ہے۔غرض دو تین مہینے کے بعد جب بالکل گل جائے تو پھر وہ