انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 248

انوار العلوم جلد 25 248 سیر روحانی نمبر (9) زمینداروں کی اصلاح اور ان کی ترقی اسی طرح ایک اور ضروری بات تھی جو کل میں بھول گیا۔میں کے متعلق صدر انجمن احمدیہ کو ہدایات نے کہا تھا کہ ہمارے زمینداروں کو اپنی پیداوار بڑھانی چاہئے مگر زمیندار بیچارہ کچھ ایسا دماغ رکھتا ہے کہ بات سمجھنی اس کے لئے بڑی مشکل ہوتی ہے۔اس کو یہ بتانا کہ کون سا موسم اچھا ہوتا ہے اور کس طرح فصل کی جاتی ہے نہایت ضروری بات ہے۔جب تک کوئی اسے بار بار یہ باتیں نہ بتائے وہ سمجھ نہیں سکتا۔میرے خیال میں صدر انجمن احمد یہ جس کی زیادہ تر ذمہ داری ہے اس کو چاہئے کہ اپنی ایک نظارت زراعت بنائے اور وہ زراعت کے ماہرین کا دورہ مقرر کرے۔پہلے جماعتوں میں سیکرٹری زراعت مقرر کر ائے اور وہ تمام احمدیوں سے اقرار لیں کہ ہم کو جو ہدایات دی جائیں گی ہم اس کے مطابق فصلیں کریں گے۔پھر یہ نظارت زراعت کا کوئی ماہر مقرر کربے جو دورہ کرے اور جا کر دیکھے کہ کس کس علاقہ میں کون کون سی فصل ہو سکتی ہے اور اس فصل کے بڑھانے کی کیا صورت ہو سکتی ہے۔پھر اس کے اوپر ایک افسر ہو جو اُس کی نگرانی کرے اور دیکھے کہ اس پر عمل ہو رہا ہے یا نہیں۔گویا جیسے کو آپریٹو سوسائٹیاں ہوتی ہیں اسی طرح ایگریکلچرل سوسائٹیاں بنائی جائیں اور سارے احمدی ممبر وعدہ کریں کہ ہمیں جو ہدایتیں دی جائیں گی ہم ان کی تعمیل کریں گے۔انہیں بتایا جائے کہ اتنے ہل دینے ضروری ہیں۔فلاں فلاں موقع پر اتنے ہل دینے ہیں، فلاں موقع پر پانی دینا ہے، اتنے پانی دینے ہیں، فلاں بیج بونا ہے اور فلاں فلاں فصل بونی ہے۔پھر جس طرح چندے کی وصولی ہوتی ہے اسی طرح باقاعدگی سے یہ کام کروائیں۔ہمارے سب سے زیادہ احمدی سیالکوٹ میں ہیں اور اس وقت تو جو وکیل الزراعت ہیں وہ بھی سیالکوٹ کے ہی رہنے والے ہیں۔یعنی چودھری مشتاق احمد صاحب باجوہ۔اور اسی طرح سید عبد الرزاق شاہ صاحب جو نائب وکیل ہیں نہایت ذہین اور ہوشیار نوجوان ہیں۔وہ سیالکوٹ کے باشندے تو نہیں لیکن ان کے والد ساری عمر سیالکوٹ میں نو کر رہے ہیں۔وہ بدوملہی کے پاس رعیہ میں ہوتے تھے۔وہیں یہ پیدا ہوئے تھے۔اگر سید عبد الرزاق شاہ صاحب اور چودھری مشتاق احمد صاحب باجوہ کے