انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 227

انوار العلوم جلد 25 227 سے مقرر کیا گیا ہے تاکہ وہ بیعت لے تو ان میں جوش بہت بڑھ جائے گا۔اِس طرح میر اخیال ہے کہ اب وقت آگیا ہے۔کہ "الوصیت " کا وہ حکم بھی پورا کیا جائے کہ بیرونی ملکوں میں لوگ وصیتیں کریں تو اس مقبرہ بہشتی کے قائمقام وہاں بھی مقبرے بنائے جائیں۔اگر ایسا ہو جائے تو امریکہ میں لوگ اس کے خواہش مند ہیں بلکہ مجھے وہاں سے اس کے متعلق درخواست بھی آچکی ہے۔افریقہ کے لوگ بھی اِس معاملہ میں بڑے جو شیلے ہوتے ہیں۔میرے نزدیک وہاں لوگ بڑی بڑی جائدادیں وقف کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے اور اس طرح سلسلہ کے فنڈز بہت مضبوط ہو جائیں گے۔پس مختلف ملکوں میں جہاں جماعتوں کی تعداد کافی ہو جائے مقبرہ بہشتی کی نیابت میں اور اس کے قائم مقام مقبرہ بہشتی قائم کرنے چاہئیں اور وہاں کے لوگوں کی وصیت میں یہ رکھا جائے کہ وہ اس جگہ دفن کئے جایا کریں۔اور یہ بھی رکھا جائے کہ جو اس جگہ وصیت کرے گا اُس کا حق ہو گا کہ جب کبھی اس کے ورثاء مالدار ہوں۔(ابھی تو ہمارے آدمی غریب ہیں لیکن کروڑ پتیوں کا زمانہ بھی تو آنے والا ہے) تو وہاں سے اُس کی لاش لا کر ہمارے یہاں مقبرہ میں دفن کی جائے۔اس طرح ان میں اور بھی جوش پیدا ہو جائے گا۔اِس طرح وہ قادیان میں بھی دفن ہو سکیں گے۔اِس طرح ممکن ہے امریکہ سے لوگ اپنی لاشوں کو لے کر قادیان میں کثرت سے جانے لگ جائیں اور اس طرح قادیان والوں کی مضبوطی کا بھی سامان ہو جائے اور ربوہ کی مضبوطی کا بھی سامان ہو جائے۔ایک بات میں جماعت کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے مسجد فنڈ کی تحریک کی تھی ابھی کہ مسجدوں کی بہت ضرورت ہے مگر جماعت کی طرف سے مسجد فنڈ میں بڑی سستی ہوئی ہے۔پس میں جماعت کو پھر کہتا ہوں کہ اس طرف توجہ کریں۔بہت تھوڑی تھوڑی رقم ان کے ذمہ ڈالی گئی تھی جس کے ساتھ لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ آسکتا تھا اور مسجدیں بن سکتی تھیں مگر جماعت نے اس طرف توجہ نہیں کی۔میں دوستوں کو مسودہ میں اس جگہ چند الفاظ واضح نہ ہیں۔