انوارالعلوم (جلد 25) — Page 197
انوار العلوم جلد 25 197 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّىٰ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ متفرق امور (فرمودہ 27 دسمبر 1955ء بر موقع جلسہ سالانہ بمقام ربوہ) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- آج صبح تو میری طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی تھی اور مجھے یہ و ہم پیدا ہونے لگا تھا کہ آیا میں دوستوں کے سامنے چند منٹ بھی بول سکوں گا یا نہیں لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے بعد میں افاقہ ہو نا شروع ہوا۔گو اب بھی ڈاکٹروں کا اور جو دوست مرض میں میرے ساتھ رہے ہیں اُن کا زور اس بات پر ہے کہ میں چند منٹ سے زیادہ تقریر نہ کروں۔گو ڈاکٹروں کی رائے کا یہ اختلاف میری سمجھ میں نہیں آتا۔لندن میں ڈاکٹر نے مجھے یہ پیغام بھیجا تھا کہ جتنی چاہو لمبی تقریر کرو کچھ پروا نہیں۔صرف اپنی تھکان کو دیکھا کرو۔اگر تھکان محسوس ہو تو چھوڑ دوور نہ ڈاکٹری لحاظ سے کوئی روک نہیں ہے۔کراچی میں بھی میں نے ایک گھنٹہ سے زیادہ کی تقریر کی اور ایک دفعہ زیورک میں بھی ایک گھنٹہ سے زیادہ کی تقریر کی اور اس کی ایک خصوصیت بھی تھی۔اُس وقت طبیعت پر ایک بوجھ بھی تھا کیونکہ ان لوگوں نے اصرار کیا کہ آپ انگریزی میں تقریر کریں اور انگریزی میں تقریر کرنے کا میں عادی نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ترجمان مقرر کئے ہوئے ہیں جو فوراً مختلف زبانوں میں اس کا ترجمہ کر کے اس کو ساری بلڈنگ میں پھیلا دیں گے اور ہر زبان والا آدمی ہیڈ فون لگا کے وہ تقریر سن لے گا۔اور ایک ایسی زبان میں تقریر کرنا جس کی عادت نہ ہو اور بھی بوجھ ہوتا ہے مگر پھر بھی کوئی ایک گھنٹہ سولہ منٹ تک وہ تقریر اور سوال وجواب جاری رہا۔لیکن یہاں آکر میں سمجھتا ہوں کہ میری طبیعت پر وہی