انوارالعلوم (جلد 25) — Page 198
انوار العلوم جلد 25 198 متفرق امور اثر ہے جس کے متعلق ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ آپ کی بیماری زیادہ تر اعصابی رہ گئی ہے۔چنانچہ یہی مجلس ہوا کرتی تھی اور اس جگہ پر بڑے بڑے مجمع کے سامنے بغیر تھکان کے میں چھ چھ سات سات گھنٹے تقریر کر جاتا تھا۔اب وہ بات یاد آتی ہے تو طبیعت پر اثر ہوتا ہے کہ اب مجھے کہا جاتا ہے کہ چند منٹ سے زیادہ تقریر نہ کرنا۔اس وجہ سے طبیعت میں قدر تا گھبر اہٹ پیدا ہوتی ہے ورنہ پر سوں شام کو اور کل صبح ایسے وقت بھی آئے جب طبیعت میں بالکل ایسا اطمینان پیدا تھا کہ جیسے مجھے کوئی بیماری ہے ہی نہیں۔مگر بعد میں تھکان کی وجہ سے یا پھر اس مجمع میں آنے کی گھبراہٹ کی وجہ سے طبیعت شام سے خراب ہو گئی۔صبح پھر کچھ دیر خراب رہنے کے بعد اچھی ہونی شروع ہوئی۔بہر حال میں کوشش کروں گا کہ دوستوں تک اپنے خیالات کو پہنچا سکوں۔کل بھی میں نے کہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں لمبی تقریریں نہیں ہوا کرتی تھیں۔لوگ عمل زیادہ کرتے تھے اور باتیں سننے کے کم عادی تھے۔حضرت خلیفہ اول کی تقریر عام طور پر پندرہ بیس منٹ ہوتی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آخری تقریر جو 1907ء میں ہوئی وہ 45 یا 50 منٹ کے قریب ہوئی تھی اور بڑا شور پڑ گیا تھا کہ آج تو بڑی لمبی تقریر تھی۔آجکل زبان کا چسکا پڑ گیا ہے اب آپ لوگ زبان کے چسکا کو چھوڑ دیں اور عمل کی طرف توجہ کریں تا کہ اللہ تعالیٰ کی برکت سے آپ جلدی جلدی اس کام کو طے کر لیں جو کہ آپ کے ذمہ لگایا گیا ہے۔بڑی مشکل یہ ہے کہ سب سے زیادہ اثر اس بیماری کا میری آنکھوں پر پڑا ہے۔شروع میں تو اس کا پتہ بھی نہیں لگا لیکن آہستہ آہستہ پتہ لگا اب میں پڑھ نہیں سکتا۔یہ مطلب نہیں کہ حرف نظر نہیں آتے۔حرف تو نظر آتے ہیں بلکہ اب بھی اگر پڑھنے والی عینک لگالوں تو مجھے تکلیف ہوتی ہے۔بغیر عینک کے مجھے زیادہ آرام رہتا ہے لیکن طبیعت میں پریشانی شروع ہو جاتی ہے۔لائل پور میں ایک بڑے لائق ڈاکٹر ہیں۔میں نے اُن کو یہاں بلوایا اور میں نے کہا کہ دیکھئے میں نے قرآن شریف کا ایک سیپارہ ہی پڑھا تھا کہ میری طبیعت گھبراگئی۔اُس بیچارے کو تو قرآن شریف پڑھنے کی عادت نہیں تھی۔کہنے لگا ایک سیپارہ