انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 97

انوار العلوم جلد 25 97 احباب جماعت کے نام پیغامات بڑھ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے کوثر کا پانی لے لیں۔لوگ اپنے باپ کی زمینوں اور مکانوں کو نہیں چھوڑتے اور ملک کی اعلیٰ عدالتوں تک جاتے ہیں کہ ہمارا ورثہ ہمیں دلوایا جائے۔اگر مسلمانوں میں سے کوئی بد بخت اپنے روحانی باپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ورثہ کو نظر انداز کرتا ہے تو اس پر افسوس ہے۔اُس کو تو فیڈرل کورٹ تک نہیں بلکہ عرش کی عدالت تک اپنے مقدمہ کو لے جانا چاہئے اور اپنا ورثہ لے کر چھوڑنا چاہئے۔اگر وہ ہمت نہ ہارے گا، اگر وہ دل نہ چھوڑے گا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ورثہ اس کو ملے گا اور ضرور ملے گا۔صاحب العرش کی عدالت کسی کو اُس کے حق سے محروم نہیں کرتی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی باپ دنیا کے ظالم دادوں کی طرح اپنے پوتوں کو طبعی حق سے محروم نہیں کرتا بلکہ جب وہ اُس سے اپیل کرتے ہیں وہ اُن کے روحانی باپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ورثہ اُن کو دیتا ہے۔بلکہ ورثہ کے حصہ سے بھی بڑھ کر دیتا ہے کیونکہ وہ رحیم کریم ہے اور وہ رحیم کریم یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان کی روحانی اولاد اپنے ورثہ سے محروم ہو جائے۔سو دوستو! بڑھو کہ تمہیں ترقی دی جائے گی۔قربانی کرو کہ تمہیں دائمی زندگی عطا کی جائے گی۔اپنے فرض کو پہچانو کہ خدا تعالیٰ اس سے بڑھ کر اپنے فرض کو پہچانے گا۔اور جب وہ وقت آئے گا تو نہ صرف تمہارے گھر برکتوں سے بھر جائیں کے بلکہ ہر وہ گوشت کا لوتھڑا جو تمہارے جسم سے نکلے گا اس کو بھی برکتوں کی چادر میں لپیٹ کر بھیجا جائے گا۔اور جو تمہارے ہمسائے میں رہے گا اس پر بھی برکتیں نازل ہوں گی۔جو تم سے محبت کرے گا اس سے خدا تعالیٰ محبت کرے گا اور جو تم سے دشمنی کرے گا اس سے خدا تعالیٰ دُشمنی کرے گا۔میں نے آپ کو کبھی نہیں کہا تھا کہ آپ میرے باہر جانے کی کوئی سکیم بنائیں۔یہ سکیم آپ لوگوں کی طرف سے پیش ہوئی، آپ نے ہی اسے منظور کیا۔میں نے ایک لفظ بھی اس کے حق میں نہیں کہا۔اب آپ کا فرض ہے کہ تکلیف اُٹھا کر بھی جو ریزولیوشن آپ نے پاس کیا تھا اُس کو پورا کریں۔