انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 98

انوار العلوم جلد 25 98 احباب جماعت کے نام پیغامات دوستوں کو میں اِس طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ قادیان میں ایک امانت فنڈ کی میں نے تجویز کی تھی اور وہ یہ تھی کہ قادیان کی ترقی کے لئے احباب کثرت سے امانتیں قادیان میں جمع کروائیں۔خاص خاص وقت پر اپنی اغراض کے لئے خلیفہ وقت اور جماعت بوقتِ ضرورت کچھ قرض لے لیا کریں گے۔اس سے احباب کا روپیہ بھی محفوظ رہے گا اور بغیر ایک پیسہ چندہ لئے جماعت کے کام ترقی کرتے رہیں گے۔قادیان میں اسی تحریک کے مطابق ترقی کرتے کرتے ستائیس لاکھ روپیہ اس امانت میں پہنچ گیا تھا اور بغیر ایک پیسہ کی مدد کے احبابِ کرام سلسلہ کی خدمت کرنے کی توفیق پاجاتے تھے۔چنانچہ اس تحریک کا نتیجہ تھا کہ پارٹیشن کے بعد جب سارا پنجاب لٹ گیا تو جماعت احمدیہ کے افراد محفوظ رہے اور ان کو اس امانت کے ذریعے دوبارہ پاکستان میں پاؤں جمانے کا موقع مل گیا۔اس کی تفصیل کہ کس کس طرح اس روپیہ کو نکالا اور خرچ کیا اور پھر احباب کو واپس کیا۔یہ تو جب اُس زمانہ کی تاریخ لکھی جائے گی تو اُس میں تفصیلاً آئے گا مگر بہر حال جس طرح جماعت کے افراد اپنے پاؤں پر کھڑے رہے وہ ظاہر ہے۔اگر اب بھی دوست میری بات کو مانیں گے تو انشاء اللہ بڑی بڑی برکتیں حاصل کریں گے۔انہیں اغراض کے ماتحت روپیہ جمع کرانا ہو گا جو میں نے اُوپر بیان کی ہیں۔تحریک، صدر انجمن احمدیہ اور میں انشاء اللہ ذاتی طور پر ان امانتوں کے واپس کرنے کے ذمہ دار ہوں گے جس طرح پہلے دور میں ذمہ دار تھے اور ایک ایک پیسہ احباب کو ادا کر دیا تھا۔روپیہ کا گھر میں پڑارہنا یا سونے کی صورت میں عورتوں کے پاس رہنا قومی ترقی کے لئے روک ہے اس لئے اپنی اولادوں کی ترقی کی خاطر ان کی تعلیم اور پیشوں کی ترقی کی خاطر اپنی آمدن میں سے تھوڑی ہو یا بہت پس انداز کرنے کی عادت ڈالیں اور امانت کے طور پر تحریک جدید یا صدر انجمن کے خزانہ میں جمع کراتے رہیں اور اس کا نام امانت خاص رکھیں۔یہ امانت اُوپر کے بیان کردہ اغراض کے لئے ہو گی۔صرف اتنا فرق ہو گا کہ جو شخص اپنی امانت میں سے دس ہزار روپے یا اس سے زائد لینا چاہے اُسے عام طور پر سات دن کا نوٹس دینا ہو گا۔مگر یہ ضروری نہیں امانت داروں کی ضرورت کے مطابق فوری روپیہ بھی ادا کر دیا