انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 50

انوار العلوم جلد 25 50 سیر روحانی (8) پہلے سے لکھا ہوا موجود ہے۔وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا اور خدا تعالیٰ اپنے پاس سے کوئی سزا نہیں دیگا بلکہ اُن کے مجرموں کے مطابق انہیں سزا دیگا۔عالم روحانی میں ہر مجرم کے لئے گویا اس دفتر میں چار گواہیاں ہو گئیں۔ایک تو فرشتوں کی ڈائری پیش کی گئی۔دس گواہ پیش کئے جائیں گے ایک ہاتھ ، پاؤں، آنکھ ، کان ، زبان اور جلد کا ریکارڈ پیش ہوا۔تیسرے خدا نے کہا میں خود بھی دیکھ رہا تھا مجھے فرشتوں کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔چوتھے پرانا ازل کا چٹھا پیش ہوا اور انہیں کہا گیا کہ یہ تو ہمیشہ سے علم الہی میں موجود تھا چنانچہ دیکھ لو یہ لکھا ہوا ہے۔ہماری شریعت نے اس دنیا میں بڑے سے بڑے گناہ کی چار گواہیاں مقرر کی ہیں مثلاً زنا ہے اس کے لئے لکھا ہے کہ چار گواہ ہوں۔باقی گواہیوں میں سے بعض دو دو سے ہو جاتی ہیں اور بعض جگہ ایک گواہ سے بھی گواہی ہو جاتی ہے۔مگر خدا کے سامنے اتنا انصاف کیا جائے گا کہ وہ چار گواہ ایسے پیش کئے جائیں گے جو نہایت معتبر ہونگے۔اوّل فرشتوں کی گواہی جو ایک نہیں بلکہ دو ہونگے گویا اس ایک گواہی میں دو گواہیاں آگئیں، پھر ریکارڈ آ گیا اس ریکارڈ میں بھی چھ گواہ ہیں آنکھ ، کان، زبان، جلد ، ہاتھ اور پاؤں یہ چھ گواہ ہونگے جن کی گواہی ہو گی۔گویا آٹھ گواہ ہو گئے۔پھر خدا نواں گواہ اور دسواں علم ازلی۔غرض دس گواہوں کے ساتھ وہاں چھوٹے سے چھوٹے مجرم کی سزادی جائیگی حالانکہ اس دنیا میں دو دو گواہ اور وہ بھی جو آٹھ آٹھ آنے لے کر قرآن اُٹھا لیتے ہیں، اُن کی گواہیوں پر فیصلہ ہو جاتا ہے۔دُنیا میں آٹھ آنہ کے گواہوں پر مقدمات کا فیصلہ ہمارے بڑے بھائی مرزا سلطان احمد صاحب جو بعد میں احمد کی ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تو اُن کا نوکری کرنا پسند نہیں تھا لیکن ان کو نوکری کا شوق تھا۔چنانچہ وہ نوکر ہوئے اور آخر ڈپٹی کمشنر ہو کر ریٹائر ہوئے۔اُن دِنوں نارتھ ویسٹرن پراونس اور پنجاب یہ دونوں