انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 484

انوار العلوم جلد 25 484 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات بہر رنگے کہ خواہی جامه می پوش من انداز قدت را می شناسم کہ تو کسی رنگ کا کپڑا پہن کر آجائے، تو کوئی بھیس بدل لے میں تیرے دھوکا میں نہیں آسکتا کیونکہ میں تیرا قد پہچانتا ہوں۔اسی طرح چاہے خلافت کا دشمن حضرت خلیفة المسیح الاوّل کی اولاد کی شکل میں آئے اور چاہے وہ کسی بڑے اور مقرب صحابی کی اولاد کی شکل میں آئے ایک مخلص آدمی اُسے دیکھ کر یہی کہے گا کہ رنگے کہ خواہی جامہ مے پوش بہر من انداز قدت را می شناسم یعنی تو کسی رنگ میں بھی آ اور کسی بھیس میں آمیں تیرے دھوکا میں نہیں آسکتا کیونکہ میں تیری چال اور قد کو پہچانتا ہوں۔تو چاہے مولوی محمد علی صاحب کا تختہ پہین لے، چاہے احمدیہ انجمن اشاعت اسلام کا جبہ پہن لے یا حضرت خلیفہ اول کی اولاد کا جبہ پہن لے میں تمہیں پہچان لوں گا اور تیرے دھوکا میں نہیں آؤنگا۔مجھے راولپنڈی کے ایک خادم نے ایک دفعہ لکھا تھا کہ شروع شروع میں اللہ رکھا میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مری کے امیر کے نام مجھے ایک تعارفی خط لکھ دو۔میں نے کہا میں کیوں لکھوں ؟ مری جاکر پوچھ لو کہ وہاں کی جماعت کا کون امیر ہے۔مجھے اُس وقت فوراً خیال آیا کہ یہ کوئی منافق ہے۔چنانچہ میں نے لا حول پڑھنا شروع کر دیا اور آدھ گھنٹے تک پڑھتارہا اور سمجھا کہ شاید مجھ میں بھی کوئی نقص ہے جس کی وجہ سے یہ منافق میرے پاس آیا ہے۔تو احمدی عقل مند ہوتے ہیں۔وہ منافقوں کے فریب میں نہیں آتے۔کوئی کمزور احمدی ان کے فریب میں آجائے تو اور بات ہے ورنہ اکثر احمدی انہیں خوب جانتے ہیں۔آب انہوں نے لاہور میں اشتہارات چھاپنے شروع کئے ہیں۔جب مجھے بعض لوگوں نے یہ اطلاع دی تو میں نے کہا گھبراؤ نہیں پیسے ختم ہو جائیں گے تو خود بخود اشتہارات بند ہو جائیں گے۔مجھے لاہور سے ایک دوست نے لکھا کہ اب ان لوگوں نے یہ