انوارالعلوم (جلد 25) — Page 485
انوار العلوم جلد 25 485 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات سکیم بنائی ہے کہ وہ اخباروں میں شور مچائیں اور اشتہارات شائع کریں۔وہ دوست نہایت مخلص ہیں اور منافقین کا بڑے جوش سے مقابلہ کر رہے ہیں مگر منافق اُسے کذاب کا خطاب دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص یو نبی ہمارے متعلق خبریں اڑا تار ہتا ہے۔لیکن ہم اسے جھوٹا کیونکر کہیں۔ادھر ہمارے پاس یہ خبر پہنچی کہ ان لوگوں نے یہ سکیم بنائی ہے کہ اشتہارات شائع کئے جائیں اور اُدھر لاہور کی جماعت نے ہمیں ایک اشتہار بھیج دیا جو ان منافقین نے شائع کیا تھا اور جب بات پوری ہو گئی تو ہم نے سمجھ لیا کہ اس دوست نے جو خبر بھیجی تھی وہ سچی ہے۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو حقیقی انصار بنائے چونکہ تمھاری نسبت اس کے نام سے ہے اس لئے جس طرح وہ ہمیشہ زندہ رہے گا اسی طرح وہ آپ لوگوں کی تنظیم کو بھی تاقیامت زندہ رکھے اور جماعت میں خلافت بھی قائم رہے اور خلافت کی سپاہ بھی قائم رہے۔لیکن ہماری فوج تلواروں والی نہیں۔اِن انصار میں سے تو بعض ایسے ضعیف ہیں کہ ان سے ایک ڈنڈا بھی نہیں اٹھایا جا سکتا لیکن پھر بھی یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فوج ہیں اور ان کی وجہ سے احمدیت پھیلی ہے اور امید ہے کہ آئندہ خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ اور زیادہ پھیلے گی۔اور اگر جماعت زیادہ مضبوط ہو جائے تو اس کا بوجھ بھی انشاء اللہ ہلکا ہو جائے گاور نہ انفرادی طور پر کچھ دیر کے بعد آدمی تھک جاتا ہے۔پس تم اپنے دوستوں اور رشتہ داروں میں احمدیت کی اشاعت کی کوشش کرو اور انہیں تبلیغ کرو تا کہ اگلے سال ہماری جماعت موجودہ تعداد سے دُگنی ہو جائے اور تحریک جدید میں حصہ لینے والے ڈگنا چندہ دیں۔اور پھر اپنی دعاؤں اور نیکی اور تقویٰ کے ساتھ نوجوانوں پر اثر ڈالو تا کہ وہ بھی دعائیں کرنے لگ جائیں اور صاحب کشوف و رؤیا ہو جائیں۔جس جماعت میں صاحب کشوف و رویا زیادہ ہو جاتے ہیں وہ جماعت مضبوط ہو جاتی ہے کیونکہ انسان کی دلیل سے اتنی تسلی نہیں ہوتی جتنی تسلی کشف اور رویا سے ہوتی ہے اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو۔“ الفضل 24،21 مارچ1957ء)