انوارالعلوم (جلد 25) — Page 464
انوار العلوم جلد 25 464 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس جہت سے مدینہ میں داخل ہوئے وہ وہی ت تھی جہاں سے قافلے اپنے رشتہ داروں سے رخصت ہوا کرتے تھے۔اس لئے انہوں نے اس موڑ کا نام ثنیۃ الوداع رکھا ہوا تھا یعنی وہ موڑ جہاں سے قافلے رخصت ہوتے ہیں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس موڑ سے مدینہ میں داخل ہوئے تو مدینہ کی عورتوں اور بچوں نے یہ گاتے ہوئے آپ کا استقبال کیا کہ طَلَعَ الْبَحْرُ عَلَيْنَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوِدَاعِ یعنی ہم لوگ کتنے خوش قسمت ہیں کہ جس موڑ سے مدینہ کے رہنے والے اپنے رشتہ داروں کو رخصت کیا کرتے تھے اس موڑ سے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے بدر یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ظاہر کر دیا ہے۔پس ہمیں دوسرے لوگوں پر فضیلت حاصل ہے اس لئے کہ وہ تو اس جگہ جا کر اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کو رخصت کرتے ہیں لیکن ہم نے وہاں جا کر سب سے زیادہ محبوب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وصول کیا ہے۔پھر ان لوگوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گھیرا ڈال لیا اور ان میں سے ہر شخص کی خواہش تھی کہ آپ اس کے گھر میں ٹھہریں۔جس جس گلی میں سے آپ کی اونٹنی گزرتی تھی اُس گلی کے مختلف خاندان اپنے گھروں کے آگے کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرتے تھے اور کہتے تھے يَا رَسُولَ اللہ ! یہ ہمارا گھر ہے جو آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہے یا رَسُولَ اللَّهِ آپ ہمارے پاس ہی ٹھہریں۔بعض لوگ جوش میں آگے بڑھتے اور آپ کی اونٹنی کی باگ پکڑ لیتے تا کہ آپ کو اپنے گھر میں اتروالیں مگر آپ ہر شخص کو یہی جواب دیتے تھے کہ میری اونٹنی کو چھوڑ دو۔یہ آج خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہے یہ وہیں کھڑی ہو گی جہاں خدا تعالیٰ کا منشاء ہو گا آخر وہ ایک جگہ پر کھڑی ہو گئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب - قریب گھر کیس کا ہے ؟ حضرت ابو ایوب انصاری نے فرمایا یا رسول اللہ ! میراگھر قریب ہے اور آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہے۔حضرت ابو ایوب کا مکان دو منزلہ تھا انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اوپر کی منزل تجویز کی مگر آپ نے اس