انوارالعلوم (جلد 25) — Page 465
انوار العلوم جلد 25 465 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات خیال سے کہ ملنے والوں کو تکلیف ہو گی نچلی منزل کو پسند فرمایا۔حضرت ابو ایوب انصاری رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار پر مان تو گئے کہ آپ نچلی منزل میں ٹھہریں لیکن ساری رات میاں بیوی اس خیال سے جاگتے رہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے نیچے سو رہے ہیں پھر وہ کس طرح اس بے ادبی کے مر تکب ہو سکتے ہیں کہ وہ چھت کے اوپر سوئیں۔اتفاقا اُسی رات ان سے پانی کا ایک برتن گر گیا۔حضرت ایوب انصاری نے دوڑ کر اپنا لحاف اُس پانی پر ڈال کر پانی کی رطوبت کو خشک کیا تا کہ چھت کے نیچے پانی نہ ٹپک پڑے۔صبح کے وقت وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارے حالات عرض کئے جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اوپر کی منزل پر رہنے میں راضی ہو گئے۔اب دیکھو یہ اس عشق کی ایک ادنی سی مثال ہے جو صحابہ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا۔پھر یہ واقعہ کتنا شاندار ہے کہ جب جنگ اُحد ختم ہوئی اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کو اس بات پر مامور فرمایا کہ وہ میدانِ جنگ میں جائیں اور زخمیوں کی خبر لیں۔ایک صحابی میدان میں تلاش کرتے کرتے ایک زخمی انصاری کے پاس پہنچے دیکھا کہ ان کی حالت نازک ہے اور وہ جان توڑ رہے ہیں۔اس نے زخمی انصاری سے ہمدردی کا اظہار کرناشروع کیا۔انہوں نے اپنا کانپتا ہوا ہاتھ مصافحہ کے لئے آگے بڑھایا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا میں انتظار کر رہا تھا کہ کوئی بھائی مجھے مل جائے۔انہوں نے اس صحابی سے پوچھا کہ آپ کی حالت خطر ناک معلوم ہوتی ہے اور بچنے کی امید نہیں کیا کوئی پیغام ہے جو آپ اپنے رشتہ داروں کو دینا چاہتے ہیں؟ اس مرنے والے صحابی نے کہا ہاں ہاں ! میری طرف سے میرے رشتہ داروں کو سلام کہنا اور انہیں کہنا کہ میں تو مر رہا ہوں مگر میں اپنے پیچھے خدا تعالیٰ کی ایک مقدس امانت محمد “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑے جارہا ہوں۔میں جب تک زندہ رہا اس نعمت کی اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر بھی حفاظت کر تا رہا لیکن اب اے میرے بھائیو اور رشتہ دارو! میں آب مر رہا ہوں اور خدا تعالیٰ کی یہ مقدس