انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 463

انوار العلوم جلد 25 463 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات مرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا بلکہ انہوں کہا یا رسول اللہ ! ہم آپ کے چاہنے والوں کو چاہتے ہیں۔چاہے وہ صحابی ہوں، تابعی ہوں، تبع تابعی ہوں یا تبع تبع تابعی۔اور ان کے بعد یہ سلسلہ خواہ کہاں تک چلا جائے ہم کو وہ سب لوگ پیارے لگتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعہ ہم کسی نہ کسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو جاتے ہیں۔محدثین کو اس بات پر بڑا فخر ہوتا تھا کہ وہ تھوڑی سی سندات سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئے ہیں۔حضرت خلیفہ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ میں گیارہ بارہ راویوں کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک جا پہنچتا ہوں۔آپ کو بعض ایسے اساتذہ مل گئے تھے جو آپ کو گیارہ بارہ راویوں کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچادیتے تھے اور آپ اس بات پر بڑا فخر کیا کرتے تھے۔اب دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع نے آپ کی صحابیت کو بارہ تیرہ درجوں تک پہنچا دیا ہے اور اس پر فخر کیا ہے تو آپ لوگ یا صحابی ہیں یا تابعی ہیں۔ابھی تبع تابعین کا وقت نہیں آیا۔اِن دونوں درجوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عزت بخشی ہے۔اس عزت میں کچھ اور لوگ بھی شریک ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں انصار کا ذکر فرمایا ہے اور پھر ان کی قربانیاں بھی اللہ تعالیٰ کو بہت پسند تھیں۔چنانچہ جب ہم انصار کی تاریخ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے ایسی قربانیاں کی ہیں کہ اگر آپ لوگ جو انصار اللہ ہیں ان کے نقش قدم پر چلیں تو یقیناً اسلام اور احمدیت دور دور تک پھیل جائے اور اتنی طاقت پکڑ لے کہ دنیا کی کوئی طاقت اس کے مقابلہ پر ٹھہر نہ سکے۔تاریخ میں لکھا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو شہر کی تمام عور تیں اور بچے باہر نکل آئے۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لئے جاتے ہوئے خوشی سے گاتے چلے جاتے تھے کہ : طَلَعَ البَدْرُ عَلَيْنَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوِدَاع