انوارالعلوم (جلد 25) — Page 462
462 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات انوار العلوم جلد 25 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسی علیہ السلام کو اپنا متبع قرار دیا ہے اور ان کے صحابہ کو بھی انصار اللہ کہا گیا ہے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک متبع کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں کو بھی انصار اللہ کہا گیا ہے۔شاید بعض لوگ یہ سمجھیں کہ یہ درجہ کم ہے لیکن اگر چالیس سال اور گزر گئے تو اُس زمانہ کے لوگ تمھارے زمانہ کے لوگوں کو بھی تلاش کریں گئے اور اگر چالیس سال اور گزر گئے تو اس زمانہ کے لوگ تمھارے ملنے والوں کو تلاش کریں گے۔اسلامی تاریخ میں صحابہ کے ملنے والوں کو تابعی کہا گیا ہے کیونکہ وہ صحابہ کے ذریعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو گئے تھے۔اور ایک تبع تابعی کا درجہ ہے یعنی وہ لوگ جو تابعین کے ذریعہ صحابہ کے قریب ہوئے اور آگے صحابہ کے ذریعہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوئے۔اس طرح تین درجے بن گئے ایک صحابی دوسرے تابعی اور تیسرے تبع تابعی۔صحابی وہ جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فائدہ اٹھایا اور آپ کی باتیں سنیں۔تابعی وہ جنہوں نے آپ سے باتیں سننے والوں کو دیکھا اور تبع تابعی وہ جنہوں نے آپ سے باتیں سننے والوں کے دیکھنے والوں کو دیکھا۔دنیوی عاشق تو بہت کم حوصلہ ہوتے ہیں کسی شاعر نے کہا ہے : تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں مرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا مگر مسلمانوں کی محبتِ رسول دیکھو۔جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ فوت ہوئے تو انہوں نے آپ سے قریب ہونے کے لئے تابعی کا درجہ نکال لیا اور جب تابعی ختم ہو گئے تو انہوں نے تبع تابعین کا درجہ نکال لیا۔اس شاعر نے تو کہا تھا کہ :۔تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں مرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا۔مگر یہاں یہ صورت ہو گئی کہ تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں اور پھر ان کے چاہنے والوں کو بھی چاہوں اور پھر تیرہ سو سال تک برابر چاہتا چلا جاؤں۔انہوں نے یہ نہیں کہا کہ :۔