انوارالعلوم (جلد 25) — Page 454
انوار العلوم جلد 25 454 قرون اولیٰ کی مسلمان خو وقت عیسائیوں نے فلسطین میں اپنی حکومت قائم کر لی تھی۔وہاں ایک عورت باہر نکلی تو عیسائیوں نے اس کی بے عزتی کی۔اسے علم نہیں تھا کہ مسلمانوں کی بادشاہت تباہ ہو چکی ہے۔اس نے اونچی آواز سے کہا یا امیر المومنین! اے امیر المومنین! میری مدد کو پہنچو۔اُس وقت امیر المومنین کی یہ حالت تھی کہ وہ دوسری طاقت کا ایک قیدی تھا اور سوائے دربار کے اس کی کہیں حکومت نہیں تھی۔لیکن اس عورت کو اس بات کا کوئی علم نہیں تھا۔اُس نے سنا ہوا تھا کہ امیر المومنین کی ہی حکومت ہوتی ہے۔اتفاقاً اس کے پاس سے ایک قافلہ گزر رہا تھا جو تجارت کے لئے اس طرف گیا تھا۔انہوں نے اس عورت کی آواز کو سنا۔جب وہ قافلہ بغداد پہنچا تو لوگ جمع ہو گئے او رانہوں نے قافلہ والوں سے کہا کہ کوئی تازہ خبر سناؤ۔اس پر انہوں نے کہا کہ ہم فلسطین میں سے آرہے تھے کہ عیسائیوں نے ایک مسلمان عورت کو قید کر لیا اور اس کی بے عزتی کی تو اس نے بلند آواز میں کہا یا امیرالمؤمنین! میں امیر المومنین کو اپنی مدد کے لئے پکارتی ہوں۔وہ بیچاری اتنا بھی نہیں جانتی تھی کہ امیر المومنین کی کوئی حیثیت نہیں وہ خود ایک قیدی ہے اور سوائے دربار کے اس کی کہیں بھی حکومت نہیں۔اس مجمع میں خلیفہ کا ایک درباری بھی کھڑا تھا۔اس نے یہ واقعہ دربار میں بیان کیا اور کہا اس اس طرح ایک قافلہ فلسطین سے آیا ہے اور اس نے بتایا ہے کہ راستہ میں انہوں نے دیکھا کہ ایک مسلمان عورت کو عیسائیوں نے قید کر لیا ہے اور اس کی بے عزتی کی ہے اور اس عورت نے اپنی مدد کے لئے امیر المومنین کو پکارا ہے۔فلسطین بغداد سے تقریباً ایک ہزار میل کے فاصلے پر ہے مگر اس عورت کی آواز خلیفہ کے کان میں پڑی جو خود ایک قیدی کی حیثیت میں تھا تو وہ ننگے پاؤں باہر نکل کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔خدا کی قسم ! جب تک میں اس عورت کو عیسائیوں کے قبضہ سے چھڑاؤں گا نہیں میں جوتا نہیں پہنوں گا اور باہر نکل کر اس نے فوج کو جمع کر ناشروع کیا۔وہ نواب جو خلافت سے بغاوت کر رہے تھے جب انہیں پتہ لگا تو وہ بھی اپنی فوج لے کر آگئے اور خلیفہ کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے۔اس طرح ایک بڑا لشکر جمع ہو گیا جس نے فلسطین کی عیسائی حکومت کو شکست دی اور اس عورت کو آزاد کر وایا گیا۔