انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 439

انوار العلوم جلد 25 439 قرون اولیٰ کی مسلمان خو پھر رہا ہے اور چاروں طرف دیکھتا پھرتا ہے یہ یقیناً جاسوس ہے ، تم اس کا مقابلہ کرو۔لیکن اس کمزور دل اور بیمار صحابی نے مقابلہ کرنے سے انکار کر دیا اور کہا مجھے ڈر آتا ہے۔تب حضرت صفیہ نے خود ایک چوب اتاری اور اس جاسوس کی نظر بچا کر اس زور سے اُسے ماری کہ وہ بے ہوش ہو کر گر پڑا۔جب وہ یہودی بیہوش ہو کر گرا تو وہ ننگا ہو گیا۔حضرت صفیہ نے اس صحابی سے کہا اب ذرا اس پر کپڑا تو ڈال دو لیکن اس صحابی کا دل بہت کمزور تھاوہ پھر بھی کہنے لگا مجھے ڈر آتا ہے کہ کہیں یہ شخص زندہ ہی نہ ہو اور مجھے مار نہ دے۔آخر کار حضرت صفیہ نے ہی مجرآت کی۔آپ اپنی آنکھوں پر کپڑا ڈال کر ایک طرف سے گئیں اور اُس یہودی پر کپڑ ڈالا اور اس کے بعد اس کی مشکیں کس دیں۔11 پھر جب جنگ اُحد کے موقع پر دشمن کا ایک ریلا آیا اور مسلمان لشکر کے پاؤں اُکھڑ گئے اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے دُور تک دھکیل دیئے گئے اور صرف چند مسلمان آپ کے پاس رہ گئے اُس وقت دشمن کی طرف سے کچھ پتھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خود پر لگے جس کی وجہ سے خود کا کیل آپ کی پیشانی میں کھس گیا اور آپ بیہوش ہو کر مسلمانوں کی لاشوں پر گر پڑے۔اس کے بعد بعض اور مسلمانوں کی لاشیں آپ کے جسم مبارک پر گریں اور مسلمانوں نے سمجھا کہ آپؐ شہید ہو گئے ہیں۔12 اُس وقت بھی مسلمان عورتیں ہی تھیں جنہوں نے اپنی وفاداری کا ایسا ثبوت پیش کیا کہ جس کی مثال دنیا میں ملنی مشکل ہے۔اُحد کا میدان مدینہ سے آٹھ نو میل کے فاصلہ پر تھا۔جب مدینہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر پہنچی تو عورتیں بے تحاشاروتی اور بلبلاتی ہوئی شہر سے باہر نکل آئیں اور میدانِ جنگ کی طرف دوڑ پڑیں۔اکثر عورتوں کو رستہ میں آپ کی سلامتی کی خبر مل گئی اور وہ وہیں ٹھہر گئیں مگر ایک عورت دیوانہ وار اُحد تک جا پہنچی۔اس عورت کا خاوند ، بھائی اور باپ اُحد میں مارے گئے تھے اور بعض روایتوں میں ہے کہ ایک بیٹا بھی مارا گیا تھا۔جب وہ مسلمان لشکر کے قریب پہنچی تو اس نے ایک صحابی سے دریافت کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے ؟ چونکہ خبر دینے والا