انوارالعلوم (جلد 25) — Page 336
انوار العلوم جلد 25 336 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات حضور کی موت کا متمنی ہے۔خدا اور رسول اور سلسلہ احمدیہ کا دشمن جانتا ہوں (کیونکہ حضور کی زندگی سے ہی اسلام کی نشاۃ ثانیہ وابستہ ہے) اور ایسے بد بخت پر لعنت کرتا ہوں اور اس سے براءت کا اظہار کرتا ہوں۔کاش ایسے ملعون کو اس کی ماں نہ جنتی تو اس کے لئے بہتر تھا۔اس کے ساتھ ہی میں ان تمام لوگوں کو بھی (جن کے متعلق شہادت مل چکی ہے کہ وہ اس دشمن سلسلہ کے بھائی یا معاون ہیں) جماعت کا دشمن بدخواہ اور بد بخت جانتا ہوں۔خواہ اس گروہ میں کوئی بظاہر بزرگ ہو۔معزز عہدہ دار جماعت ہو یا کسی ولی اللہ یا خلیفہ کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔اللہ تعالیٰ ان کو توبہ کی توفیق دے تا عاقبت خراب نہ ہو۔(3) خلفاء راشدین کے زمانہ کے حالات کا علم رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ فتنوں کا ظہور حضرت عثمانؓ کے وقت میں نمایاں طور پر ہوا تھا گو اس کا آغاز حضرت عمر کے وقت میں ہو چکا تھا مگر وہ دبا ہوا تھا اور اس وقت بھی حضرت خلیفہ اول کے بیٹے عبد الرحمن بن ابی بکر نے ہی حضرت عثمان کی شہادت میں نمایاں حصہ لیا تھا اور اس کی بہن بھی بانی اسلام کے نکاح میں تھی۔اسی طرح اب بھی ہو رہا ہے جیسا کہ عاجز نے تین سال ہوئے عرض کیا تھا کہ حضور کا زمانہ خلافت چونکہ بفضل خدا بہت لمبا ہو گا اس لئے حضرت عمر، عثمان اور علی تینوں کے زمانہ کے واقعات حضور کے وجو د باجود میں دہرائے جائیں گے جن کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔حضور کی خلافت کا عمری زمانہ حضور پر قاتلانہ حملہ کے ساتھ ختم ہو گیا مگر دشمن کا بیٹا نا کام رہا۔اب عثمانی دور شروع ہے جس میں اب اندرونی حملہ کی کوشش ہو گی اور اس میں بھی کسی خلیفہ کا بیٹا نمایاں حصہ لے گا ( والله اَعْلَمُ بس ہمارا یہ فرض ہے کہ جماعت کو ان فتنوں کے اسباب اور ان کے ازالہ کی طرف توجہ دلاتے رہیں جس کے لئے ہر دوست کو حضور کا لیکچر "اسلام میں اختلافات کا آغاز " زیر مطالعہ رکھنا ہو گا۔(تا وہ دھوکا نہ کھا سکے ) اور ہر طرح چوکس رہنا ہو گا۔واللہ الْمُوَفِّق (4)۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو بعض امور مصلح موعود کے متعلق حضرت خلیفہ اول کو الگ لکھے تھے اس میں بھی حکمت یہی تھی کہ ان کی اولاد :