انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 327

انوار العلوم جلد 25 327 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات اللہ رکھا حضرت میر محمد اسحق صاحب کی زندگی میں قادیان آیا تھا اور دار الشیوخ میں ملازم تھا۔بعض دفعہ اماں جی کے گھر کا کام بھی کرتا اور اماں جی اس کو روٹی بھی دیا کرتی تھیں۔ر جس طرح سب احمدیوں کے ساتھ ان کا بیٹوں جیسا سلوک تھا اللہ رکھا کے ساتھ بھی تھا۔یہ کبھی بیمار ہوتا تو میں اس کا علاج بھی کرتا۔اگر آپ الفضل میں مضمون لکھنے سے پہلے اور میر اذکر کرنے سے پہلے مجھ سے دریافت کر لیتے تو شاید اس قدر غلط فہمی پیدا نہ ہوتی۔میرے علم میں اللہ رکھا کو قادیان میں حماقتوں کی معافی مل چکی تھی اس لئے تعزیت کے خط کا جواب دیتے وقت قطعا میرے ذہن میں نہیں آسکتا تھا کہ اس کو خط کا جواب نہ لکھنا چاہیئے۔حَاشَاوَكَلا میرے ذہن کے کسی گوشے میں بھی یہ نہیں آیا کہ میں کسی ایسے شخص کو خط رہا ہوں جو حضور کا بدخواہ ہے۔اللہ رکھا کے متعلق کو ہاٹ کی جماعت نے جو بات کہی ہے وہ تو بہت بعد کی ہے۔نہ میں نے یہ بات اس سے سنی نہ مجھے علم تھا کہ آپ کے خیالات اس کے متعلق یہ ہیں۔میں سمجھتا ہوں اللہ رکھانے میرے خط کا ناجائز استعمال کیا ہے۔ہمارا تو فرض ہے کہ آپ کو خوش رکھیں خصوصاً ایسے وقت میں جب کہ آپ بیمار بھی ہیں۔ایسے حالات میں نادانستہ میرا ایک خط آپ کے لئے تکلیف کا باعث بنا جس سے طبعاً مجھے بھی اذیت پہنچی۔میں نے بچپن میں فیصلہ کیا تھا کہ اپنی قسمت آپ کے ساتھ وابستہ رکھوں گا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علاوہ حضرت خلیفہ اول کا منشاء بھی یہ تھا کہ اُن کے بعد آپ جماعت کے امام ہوں۔میں ان سے زیادہ عالم ہوں نہ عارف دینی نہ دنیوی نقطہ نگاہ سے کوئی بات میرے ذہن میں آہی نہیں سکتی۔آپ کے ہاتھ سے ساری عمر میٹھی کا شیں کھائیں ہیں کوئی وجہ نہیں کہ ایک کڑوی کاش کھانے سے انکار کروں۔آپ کی پہلی مہربانیوں کو بھی انعام ہی سمجھتا رہا ہوں اور آپ کی اس تحریر کو بھی انعام ہی سمجھوں گا۔شاید اس سے نفس کے گناہوں کی تلافی ہو جائے۔شکر گزار ہوں گا اگر حضور میری یہ تحریر شائع کر دیں۔دعا بھی کریں اللہ تعالیٰ مجھے تا موت خلافت کے دامن سے وابستہ رہنے کی توفیق دے۔آپ کا عبد الوہاب “