انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 190

انوار العلوم جلد 25 190 افتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1955ء اس کے بعد مکرم اختر صاحب نے تاریں پڑھ کر سنائیں۔تاروں کے سنائے جانے کے بعد حضور پھر کھڑے ہوئے اور فرمایا۔اب میں دعا کروں گا۔میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ خصوصیت سے قادیان کے لئے ، قادیان والوں کے لئے اور ہندوستان کی جماعتوں کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اُن کا حافظ و ناصر ہو۔آپ جانتے ہیں کہ چندہ دینے والے لوگ ادھر آگئے ہیں اور وہاں صرف کھانے والے رہ گئے ہیں۔اُن لوگوں کو گزارہ کی بڑی دقتیں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے لئے اپنے فضل سے سامان پیدا کرے۔جس کی یہی صورت ہے کہ وہاں خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو بڑھا دے اور پھر ہمارے جو دوست قادیان میں ہیں ان کے حوصلے بڑھائے اور وہ تبلیغ کی طرف توجہ کریں۔اسی طرح سے قادیان کے باہر ہندوستان میں جو جماعتیں ہیں وہ بھی بڑی مشکلات میں ہیں یعنی ان کو کاروباری دقتیں ہیں کیونکہ مسلمان کم ہو گئے ہیں اور مسلمانوں کا رسوخ بھی کم ہو گیا ہے۔اسی طرح بعضوں کی تجارت کو نقصان پہنچا ہے اور بعضوں کے کار خانوں کو نقصان پہنچا ہے۔پس دوست ان سب کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ سب کی مشکلات کو دور کرے اور سب کو اتنی برکتیں بخشے کہ وہ آپ بھی خوش رہیں اور قادیان والوں کی بھی امداد کر سکیں۔ہندوستان میں چالیس کروڑ کی آبادی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ فضل کرے اور ہمیں ایک کروڑ بھی ان میں سے مل جائے تو قادیان کی آبادی کے لئے یہ بڑا کافی ہو جاتا ہے۔مگر ہم تو اپنی کمزوری کی وجہ سے ایک کروڑ کہتے ہیں ورنہ اصل میں چالیس میں سے اکتالیس ملنے چاہئیں۔چالیس تو وہ جو اب ہیں اور ایک وہ جو اُس وقت تک پیدا ہو جائے گا۔سو اللہ تعالیٰ فضل کرے کہ اگر اب احمدیت اور اسلام کو ایک ملک میں پھیلا دے تو یہ جو سیاسی رو کیں ہیں یہ آپ ہی آپ دور ہو جاتی ہیں۔اگر سارے دل اکٹھے ہو جائیں، سارا ہندوستان مسلمان ہو جائے تو پاکستان اور ہندوستان کا دل ایک ہو جائے گا۔آج تو لوگ کہتے ہیں ہندوستان میں یہ تقریر پاکستان کے خلاف ہوئی اور ہندوستان والے کہتے ہیں کہ پاکستان میں یہ تقریر ہندوستان کے خلاف ہوئی لیکن اگر دونوں کے دلوں میں