انوارالعلوم (جلد 25) — Page 191
انوار العلوم جلد 25 191 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1955ء ایمان پیدا ہو جائے اور وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئیں تو ایک دوسرے کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔پس دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس طرح دلوں کو آپس میں صاف کر دے کہ ایک دوسرے کے حق بھی مل جائیں اور پھر ایمان میں بھی متحد ہو جائیں اور سارے ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہو جائیں اور سب ہی ہم کو پیارے ہو جائیں کیونکہ اصل حکومت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت ہندوستان میں قائم ہو جائے تو پاکستان اور ہندوستان کے اختلاف آپ ہی ختم ہو جاتے ہیں کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت میں کوئی باڈر نہیں وہ ساری ایک ہے۔ہم تو کسی زمانہ میں ایک وطنی تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ میرے مذہب میں کالے گورے کی کوئی تمیز نہیں۔ایرانی اور رومی اور عرب میں کوئی تمیز نہیں۔پس اگر خدا تعالیٰ ان سب کو مسلمان بنادے اور خدا تعالیٰ سے یہ کوئی بعید بات نہیں تو یہ سارے جھگڑے ختم ہو جاتے ہیں اور ہمارے دونوں ملک اتحاد اور اتفاق کے ساتھ بہت سی ترقیات حاصل کر سکتے ہیں جو اس اختلاف کے ذریعے حاصل نہیں کر سکتے۔“ اس کے بعد حضور نے لمبی دعا کروائی۔دعا سے فارغ ہونے پر حضور نے پہلے تو یہ اعلان فرمایا کہ میں نماز مسجد مبارک میں پڑھوں گا اور اس کے بعد فرمایا: - اس دفعہ ملاقاتیں مختصر کی گئی ہیں امید ہے کہ دوست اس کی پروا نہیں کریں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں تو ملاقاتیں ہوا ہی نہیں کرتی تھیں۔آپ سیر کو جاتے تھے دوست دیکھ لیتے تھے۔اور اگر بعض کو موقع ملتا تو مصافحہ بھی کر لیتے تھے۔تقریریں بھی مختصر ہوتی تھیں۔حضرت خلیفہ اول کی تقریر تو پندرہ ہیں پچیس منٹ ہوتی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آخری جلسہ کی تقریر مجھے یاد ہے کہ پچاس یا پچپن منٹ کی ہوئی تھی اور ہم بڑی باتیں کرتے تھے کہ آج بڑی لمبی تقریر ہوئی ہے اور جماعت میں بڑا شور پڑا کہ آج حضور نے بڑی لمبی تقریر کی ہے۔آپ لوگوں کو چھ چھ گھنٹے سننے کی عادت پڑی ہوئی ہے اب ہمیں چھپیں یا تیس منٹ کی تقریر ہو