انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 181

انوار العلوم جلد 25 181 افتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1955ء بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّىٰ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1955ء (فرمودہ26دسمبر 1955ء بر موقع جلسہ سالانہ بمقام ربوہ) ہے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- ”اب میں اس سال کے جلسہ کا افتتاح کرتا ہوں۔کتنا عظیم الشان فرق بارہ مہینے میں پڑا ہے۔بارہ مہینے پہلے میں بالکل تندرست تھا مگر اس کے بعد میں ایک سخت بیماری میں مبتلا ہوا جس کے اثرات اب تک باقی ہیں۔اس بیماری کا جو ظاہری جسمانی حصہ پر اثر تھا اس میں تو کمی ہے۔ہاتھ پیر ہلا تا ہوں، چل لیتا ہوں لیکن ابھی کئی قسم کے اثرات باقی ہیں۔مثلاً نظر بہت کم کام کرتی ہے گو ڈاکٹر کہتے ہیں کہ موتیا بند نہیں۔لیکن کوئی اعصابی مرض ہے۔تھوڑا سا بھی پڑھوں تو سر چکرا جاتا ہے جس کی وجہ سے سارا دن گھبراہٹ میں گزرتا ہے۔جب تک میری بیوی مجھے ڈاک وغیرہ سناتی رہے یا قرآن شریف کے نوٹ لکھتی رہے طبیعت ٹھیک رہتی ہے۔بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ کئی ڈاکٹروں نے حتی کہ یورپین ڈاکٹروں نے بھی جو دین کے اتنے قائل نہیں کہا کہ آپ کی صحت معجزانہ ہے حالانکہ وہ دین کے قائل نہیں ہیں مگر ان کے منہ سے بھی ایسا فقرہ نکل گیا۔چنانچہ مجھے یاد ہے جرمنی میں ایک ڈاکٹر مجھے دیکھ کر کہنے لگا کہ Your care was miraculous اِسی طرح یہاں کے بھی کئی ڈاکٹروں نے کہا کہ یہ ایک معجزانہ بات تھی۔اب اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس معجزہ کو کامل کر دے اور وہ جو اب تک میرے دماغ پر بوجھ ہے اُس کو دور کر دے۔بعض دفعہ خدا تعالیٰ کا فضل ایسا ہوتا ہے کہ یہ بوجھ بالکل دور ہو جاتا ہے۔کل ہی کی بات ہے نماز مغرب اور