انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 65

انوار العلوم جلد 25 65 سیر روحانی (8) بیعت کے لئے حضرت جنید کی شرط پھر انہوں نے علماء کی مجلس میں جانا شروع کیا اور کہا میرے لئے دُعا کریں کہ مجھے تو بہ نصیب ہو۔اُن کے ظلم بڑے مشہور تھے اور بڑی غارت اور تباہی انہوں نے مچائی ہوئی تھی۔جس عالم کے پاس بھی جائیں وہ کہے میاں! تمہاری توبہ قبول نہیں ہو سکتی۔تمہاری تو بہ بھلا خدا کب قبول کر سکتا ہے۔تم نے تو اتنے ظلم کئے ہیں کہ جنگی کوئی حد ہی نہیں۔وہ مایوس ہوتے ہوئے بیسیوں علماء کے پاس گئے مگر ہر ایک نے یہی جواب دیا۔آخر کسی نے کہا کہ جنید بغدادی بڑے صوفی ہیں اور بڑے خدا پرست اور بڑے رحم دل ہیں اُن کے پاس جاؤ تو شاید وہ تمہاری توبہ قبول کر لیں۔چنانچہ وہ اُن کے پاس گئے اور جاکر کہا کہ میں شبلی ہوں۔میں اس طرح علماء کے پاس گیا تھا مگر انکار کیا۔اب میں آپ کے پاس آیا ہوں آپ میرے لئے دُعا کریں اور توبہ قبول کریں۔حضرت جنید نے کہا کہ ہاں خدا تعالیٰ سب کے گناہوں کو معاف کرتا ہے پر کچھ تمہیں بھی اپنی تو بہ کے آثار دکھانے چاہئیں۔انہوں نے کہا میں دکھانے کے لئے تیار ہوں۔آپ جو محکم دینا چاہیں دیں۔فرمایا جاؤ اس صوبہ میں جہاں تم گورنر مقرر تھے اور پھر جس شہر میں تم مقرر تھے اور جہاں روز تم سزائیں دیا کرتے تھے ، کوڑے لگوایا کرتے تھے ، نالشیں کیا کرتے تھے ، گھروں پر قبضہ کیا کرتے تھے ، مردوں کو قید کیا کرتے تھے ، عورتوں کو بے عزت کیا کرتے تھے۔اُس شہر میں جاؤ اور ہر گھر پر دستک دو اور ہر گھر کے آدمیوں کو باہر بلا کے کہو کہ میں مجرم کی حیثیت میں تمہارے سامنے پیش ہوں جو چاہو مجھے سزا دے دو مگر خدا کے لئے مجھے معاف کر دو۔ایک ایک گھر میں جاؤ اور معافی لو۔جب تم سارا شہر پھر لو گے تو پھر میرے پاس آنا میں تمہاری بیعت لے لونگا۔شبلی نے کہا مجھے منظور ہے۔شبلی کا گھر گھر جا کر لوگوں چنانچہ وہ وہاں گئے اور ایک سرے سے لے کر دستک دینی شروع کی۔لوگوں نے پوچھا کون سے معافی حاصل کرنا ہے ؟ انہوں نے کہا میں شیلی ہوں۔پہلے تو وہ سمجھیں کہ کوئی فقیر ہو گا یو نہی بات کرتا ہے مگر باہر نکل کے دیکھنا تو انہیں معلوم ہونا کہ