انوارالعلوم (جلد 25) — Page 64
انوار العلوم جلد 25 64 سیر روحانی (8) لے گئے اور اُس کو خلعت پہنایا گیا۔بد قسمتی سے وہ اُسی دن سفر سے آیا تھا کہیں سفر میں اُسے ہوا لگی یا کچھ اور ہوا جس کی وجہ سے اُس کو شدید نزلہ ہو گیا اور گھر سے چلتے وقت وہ رومال لا نا بھول گیا۔جب بادشاہ کے سامنے آیا تو یکدم اُسے چھینک آئی اور چھینک سے رینٹھ نکل کے ہونٹوں پر آگئی۔اب اگر وہ رینٹھ کے ساتھ بادشاہ کے سامنے کھڑا رہتا ہے تو بادشاہ خفا ہوتا ہے اور اگر پونچھتا ہے تو رومال نہیں۔اُس نے اِدھر اُدھر نظر بچا کے اُسی خلعت کا ایک پہلو لیا اور ناک پونچھ لیا۔بادشاہ نے دیکھ لیا اُسے سخت غصہ چڑھا اور کہنے لگا۔ہم نے تمہارا اتنا اعزاز کیا، تمہیں خلعت دی اور تمہیں اتنا نوازا اور تم نے اتنی تحقیر کی ہے کہ اس کے ساتھ ناک پونچھتے ہو۔فوراً یہ خلعت اُتار لیا جائے اور اس کو جرنیلی سے موقوف کیا جائے۔خیر وہ بیچارہ تو کیا کر سکتا تھا خلعت اُتارنے لگے تو شبلی نے دربار میں چیخیں مارنی شروع کر دیں کہ ہائے میں مر گیا۔بادشاہ حیران ہوا کہ یہ خواہ مخواہ کیوں شور مچارہا ہے۔چنانچہ بادشاہ نے کہا تم کو کیا ہوا؟ ہم اس پر خفا ہوئے ہیں تم کیوں خواہ مخواہ رو رہے ہو ؟ اُس نے کہا بادشاہ سلامت! میں نہیں روؤ نگا تو کون روئے گا۔اس شخص نے سال بھر ہر صبح سے شام تک اپنی بیوی کو بیوہ کیا، سال بھر میں ہر صبح سے شام تک اس نے اپنے بچوں کو یتیم کیا، محض آپ کی خوشنودی کے لئے۔اور بارہ مہینے اس نے اپنے آپ کو قتل و غارت اور خون کے آگے ہدف بنایا صرف اس لئے کہ آپ کی رضا حاصل ہو جائے۔اور جب اتنی قربانی کے بعد یہ آیا اور آپ نے اس کو دس ہزار یا بیس ہزار کا خلعت بھی دے دیا اور اس قربانی کے مقابلہ میں بلکہ اس کی ایک دن کی قربانی کے مقابلہ میں بھی تو یہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا مگر آپ نے اس پر اتنے غصے کا اظہار کیا کہ اس نے میرے خلعت کی ہتک کی ہے اور اس سے ناک پونچھ لیا ہے اور اس قدر ناراض ہو گئے کہ کہا اس کو نکال دو، یہ بڑا خبیث اور بے ایمان ہے۔تو حضور ! یہ کان، ناک، آنکھ یہ جسم کی خلعت جو خدا نے مجھے پہنائی ہے میں روز آپ کی خاطر اس کو گندہ اور ناپاک کرتا ہوں۔مجھے قیامت کے دن خدا کیا کہے گا کہ کمبخت! تو نے یہ خلعت کیوں گندہ کیا تھا۔پس میں نہ روؤں تو اور کون روئے ؟ وہ اُسی وقت اُٹھے استعفے پیش کیا اور چلے گئے۔22