انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 60

انوار العلوم جلد 25 60 سیر روحانی (8) اعلیٰ درجہ کے لوگ ہونگے کہ اُن کی محبت اور قربانی اور تو بہ کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ صرف اُن کی بدیوں کو چھپائے گا ہی نہیں بلکہ اُنکی بدی کی جگہ نیکی لکھ دیگا۔چنانچہ فرماتا ہے يُبَدِّلُ اللهُ سَيَاتِهِمْ حَسَنت 20 کچھ ایسے مؤمن ہونگے کہ اُن کے اعلیٰ درجہ کو دیکھ کر ، اُن کے تقویٰ کو دیکھ کر ، اُن کی تو بہ کو دیکھ کر ، اُن کی دیانت کو دیکھ کر گو غلطیاں بھی انہوں نے کیں، گناہ بھی اُن سے سرزد ہوئے، کمزوریاں بھی اُن سے ہوئیں مگر اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہے گا یہ میرا بندہ ہے ہم نے اس کی سزا معاف کر دی ہے اور اس کو معاف کر کے اس کے قرب کا فیصلہ کیا ہے اس لئے یہاں نیکی لکھ دو۔چنانچہ جب وہ کتاب پڑھے گا تو جو ادنی درجہ کا مؤمن ہو گا اُس کے اعمالنامہ پر تو چیپیاں لگی ہوئی ہو نگی اور اُس کے گناہ کو چھپایا ہوا ہو گا۔اور جو اعلیٰ درجہ کا مؤمن ہو گا اُس کے اعمالنامہ میں وہاں اُس کا کوئی کارنامہ لکھا ہوا ہو گا۔مثلاً وہی کام جو پہلا تھا اُس کو بڑھا کر اپنے انعام کے ساتھ اس میں شامل کیا ہو گا۔گویا اُس کا اعمال نامہ ایک نئی شکل میں ہو گا۔اس کی مثال سمجھنے کے لئے یاد رکھنا چاہئے کہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ گویا جھوٹ کے ساتھ کام لیا جائے گالیکن یہ جھوٹ نہیں ہو گا۔میں اس کی ایک مثال دے دیتا ہوں جس سے معلوم ہو گا کہ کس طرز پر کام لیا جائے گا۔حضرت معاویہ کی ایک آثار میں پرانے زمانہ کا ایک واقعہ لکھا ہے آجکل تو یہ ہوتا ہے کہ کوئی بڑا آدمی مسجد میں نماز پڑھنے چلا نماز ضائع ہونے کا واقعہ جائے تو سارے شہر میں دھوم پڑ جاتی ہے کہ آج فلاں صاحب جمعہ کی نماز کے لئے آئے تھے لیکن پرانے زمانہ میں اِس کے الٹ ہو تا تھا۔پرانے زمانہ میں امراء خود نماز پڑھاتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے تھے۔آپ کے بعد آپ کے خلفاء پڑھاتے تھے اور اس کے بعد جو دنیوی خلفاء آئے وہ بھی خود نماز پڑھاتے تھے۔حضرت معاویہ کے زمانہ میں خود حضرت معاویہ مسجد میں جا کر نماز پڑھاتے تھے۔ایک دن ایسا ہوا