انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 59

انوار العلوم جلد 25 59 سیر روحانی (8) اُس نے کئے ہیں) تو اُس دن اچھی طرح جانچ پڑتال ہو گی۔پھر کیا ہو گا؟ وَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا جو ایمان لانیوالا ہو گا اور عمل نیک کرنے والا ہو گا اُس نے کچھ بدیاں تو کی ہونگی ، کچھ غلطیاں اُس سے بھی صادر ہوئی ہونگی، کچھ کمزوریاں اُس سے بھی ہوئی ہونگی مگر يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيّاتِہ ہم کہیں گے اس تمام جگہ پر جہاں بُرے کام درج ہیں چسپیاں لگا دو تا کہ انہیں کوئی نہ دیکھے۔لغت میں لکھا ہے کہ التَّكْفِيرُ سَتْرُهُ وَ تَنْتِيْتُهُ حَتَّى يَصِيْرَ بِمَنْزِلَةِ مَالَمْ يُعْمَلْ 12 کہ تکفیر کے معنے ہوتے ہیں ڈھانپ دینا اور اُس پر پردہ ڈال دینا ایسی صورت میں کہ یہ پتہ لگانا نا ممکن ہو جائے کہ اس نے فلاں کام کیا تھا۔تو يُكَفِّرْ عَنْهُ سياته اللہ تعالیٰ فوراً حکم دیگا کہ یہاں چیپیاں لگادی جائیں تا کہ یہ یہ جگہ سامنے آئے تو پتہ ہی نہ لگے کہ اس نے یہ کام کیا تھا۔اس طرح بتایا گیا کہ صرف امکان ہی نہیں ہے بلکہ وقوعہ بھی یہی ہو گا کہ مؤمن اور نیک عمل کرنے والے اور تائب کی غلطیوں پر چیپیاں لگا کر انہیں چھپا دیا جائے گا اور کسی کو پتہ نہیں لگے گا کہ اس نے کوئی گناہ کیا ہے۔اگر چیپیاں نہ لگی ہو تیں تو اگر مؤمن کی غلطیوں پر پردہ نہ ڈالا جاتا تو مؤمن کیوں کہتا کہ هَاؤُمُ وہ اپنے اعمالنامہ پر فخر کس طرح کر سکتا اقري والشيبة آؤ ذرا میرا اقْرَءُوا اعمالنامہ پڑھو۔اگر پڑھاتا تو ساتھ بدیاں بھی نکل آتیں اور اگر اعمالنامہ میں بدیاں بھی لکھی ہوئی ہو تیں تو چاہے اُسے جنت ہی ملی ہوتی وہ اُسے اپنی بغل میں دبا لیتا اور کہتا مجھے جنت ملی ہے مجھے انعام ملا ہے۔اگر کوئی کہتا ذرا کتاب دکھانا تو جواب دیتا نہیں نہیں ! میں پھر دکھاؤنگا۔کیونکہ وہ ڈرتا کہ دیکھے گا تو بیچ میں بدیاں بھی نکل آئیں گی۔مگر چونکہ بدیوں چیبیاں لگی ہوئی ہونگی اس لئے وہ کہے گا هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَبِيَةُ ارے میاں ! آؤ اور میری کتاب دیکھو میرے اندر کوئی عیب نہیں ہے۔اعلیٰ درجہ کے مومنوں کی بدیاں اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جہاں کچھ لوگوں کی غلطیوں کو بھی نیکیوں میں بدل دی جائیں گی پچھیا دیا جائے گا وہاں کچھ ایسے بھی