انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 502 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 502

انوار العلوم جلد 25 502 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات کوئی چیز ضائع نہیں کر سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور دوسرے بزرگوں کی مثالیں موجود ہیں کہ کبھی مومن خدا تعالیٰ کے فضل سے مصائب اور آفات سے نہیں ڈرتے۔مثلاً حضرت نظام الدین صاحب اولیاء کے متعلق مشہور ہے کہ آپ کے معاصرین نے آپ کے خلاف بادشاہ کے کان بھرے اور وہ آپ سے بدظن ہو گیا اور آپ کو سزا دینے پر تیار ہو گیا۔لیکن اس نے کہا میں ابھی جنگ کے لئے باہر جارہا ہوں واپس آؤں گا تو انہیں سزا دوں گا۔جب وہ واپس آرہا تھا تو حضرت نظام الدین اولیاء کے مرید آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے بادشاہ واپس آرہا ہے، آپ کوئی سفارش اس کے پاس پہنچائیں تاکہ وہ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔حضرت نظام الدین صاحب اولیاء نے فرمایا ”ہنوز دلی دور است“ ابھی دلی بہت دور ہے۔جب وہ دتی کے اور قریب آگیا تو مریدوں نے پھر کہا حضور ! اب تو بادشاہ بالکل قریب آگیا ہے اس نے فیصلہ کیا ہے کہ دہ صبح دتی میں داخل ہو جائے گا۔حضرت نظام الدین صاحب اولیاء نے پھر فرمایا کہ ہنوز دلی دور است“ ابھی دِتی بہت دور ہے۔چنانچہ مرید خاموش ہو کر واپس چلے گئے۔رات کو بادشاہ کے بیٹے نے شہر کے باہر والے محل پر ایک بہت بڑا جشن کیا۔ہزاروں لوگ اس جشن میں شرکت کے لئے آئے اور وہ محل کی چھتوں پر چڑھ گئے۔چھت کا کچھ حصہ بوسیدہ تھا اس لئے وہ اس بوجھ کو بر داشت نہ کر سکا اور گر پڑا۔بادشاہ اور اس کے ساتھی چھت کے نیچے بیٹھے تھے اس لئے وہ اس کے نیچے ہی دب گئے اور مر گئے۔چنانچہ صبح بجائے اس کے کہ بادشاہ شہر میں داخل ہو تا اُس کی لاش شہر میں لائی گئی۔حضرت نظام الدین صاحب نے مریدوں سے فرمایا دیکھو! میں نے نہیں کہا تھا کہ ہنوز دلی دور است کہ ابھی دتی بہت دور ہے۔وہ ข پھر تین سال ہوئے اس قسم کا ایک واقعہ آپ لوگوں نے بھی دیکھا ہے۔اُس وقت احمدیوں کو لاریوں اور گاڑیوں سے کھینچ کھینچ کر اُتارا جاتا تھا اور انہیں مارا پیٹا جاتا تھا۔اُس وقت میں نے اعلان کیا کہ گھبراؤ نہیں میرا خدا میری مدد کے لئے دوڑا چلا آرہا