انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 503

انوار العلوم جلد 25 503 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات ہے۔چنانچہ تم نے دیکھا کہ تین دن کے اندر اندر نقشہ بدل گیا۔لوگ اُس وقت کہہ رہے تھے کہ اب احمدیوں کا پاکستان میں کوئی ٹھکانہ نہیں، ہر طرف ان میں جوش بھر ہوا تھا اور نعرے لگ رہے تھے کہ احمدیوں کو قتل کر دو۔اُس وقت میں نے کہا کہ میرا خدا میری مدد کے لئے دوڑا آرہا ہے ، وہ مجھ میں ہے وہ میرے پاس ہے۔پھر دیکھو میر اخدا میری مدد کے لئے دوڑ کر آیا یا نہیں ؟ آب سارے مولوی تسلیم کر رہے ہیں کہ وہ اپنے مطالبات کے تسلیم کرانے میں ناکام رہے ہیں۔۔آب بھی جماعت میں منافقین نے فتنہ پیدا کیا تو گجرات کے ایک آدمی نے مجھے کہا کہ مجھ سے ایک منافق نے ذکر کیا کہ ہم سے غلطی ہو گئی کہ ہم نے خلافت کا سوال بہت پہلے اُٹھا دیا۔اب ہمیں احمدیوں کے پاس جانے کا کوئی موقع نہیں ملتا۔جہاں ہم جاتے ہیں دُھتکار دیئے جاتے ہیں۔اگر ہم چپ رہتے اور خاموشی سے کام کرتے تو ہم ہر ایک احمدی کے پاس جاسکتے تھے اور اسے اپنی بات سنا سکتے تھے۔لیکن اب ہمیں یہ کرنے کی جرات نہیں جس کی وجہ سے ہماری ساری سکیم فیل ہو گئی ہے۔پھر دیکھو میں بیماری کی وجہ سے لمبا عرصہ باہر رہا تھا اور ان منافقین کے لئے موقع تھا کہ وہ میری غیر حاضری میں شور مچاتے لیکن خدا تعالیٰ نے انہیں دبائے رکھا۔اور جب میں واپس آیا تو اس نے ایک بیوقوف کے منہ سے یہ بات نکلوادی کہ ہم دو سال کے اندر اندر خلافت کو ختم کر دیں گے۔میں نے اس کے بیان کو شائع کرایا۔اس پر کئی لوگوں نے اعتراض کیا کہ یونہی ایک بے وقوف کی بات کو بڑھا دیا گیا ہے اِس سے اُسے شہرت اور اہمیت حاصل ہو جائیگی لیکن اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ یہ لوگ ننگے ہو گئے۔چنانچہ ایک دوست نے مجھے خط لکھا کہ آپ نے اپنی بیالیس سالہ خلافت میں بڑے بڑے عظیم الشان کارنامے کئے ہیں لیکن اب جو آپ نے کام کیا ہے اور جماعت کو وقت پر فتنے سے آگاہ کر دیا ہے اور اسے بیدار کر دیا ہے مجھے یقین ہے کہ اس سے بڑا آپ کا اور کوئی کارنامہ نہیں۔آج ہمیں سب منافقوں کا پتہ لگ گیا ہے اور آج ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے شیطان کو مار دیا ہے اور اسے نئے نئے طریقوں سے جماعت کے اندر فتنہ پیدا کرنے سے روک دیا