انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 27

انوار العلوم جلد 25 27 سیر روحانی (8) نہ وہ ہر ایک آدمی کے عمل کی تحقیقات کر سکتا ہے۔لازمی بات ہے کہ کچھ لوگ تو یونہی ان کی نظروں سے نچھپ جائیں گے اور جو لوگ اُن کی نظروں کے نیچے آئیں گے اُن سب کے متعلق بھی وہ صحیح تحقیقات نہیں کر سکتے۔کچھ کے متعلق تو وہ صحیح تحقیقات کریں گے اور کچھ کے متعلق وہ سُنی سنائی باتوں پر ہی کفایت کر لیں گے۔اعتبار ہو گا کہ فلاں آدمی بڑا سچا ہے ، اُس نے کہا ہے تو ٹھیک ہی بات ہو گی اس لئے وہ مجبور ہوتے ہیں کہ جو بات اُن تک پہنچے اُس پر اعتبار کر لیں۔مختلف حکومتوں کا طریق کار دنیا کی تمام گورنمنٹوں میں امریکہ میں بھی، انگلینڈ میں بھی، یورپ میں بھی، ایشیا میں بھی غرض سارے ملکوں میں دیکھا جاتا ہے اُن کی کتابوں کو ہم پڑھتے ہیں تو اُن سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اُن کا عام قاعدہ یہ ہوتا ہے کہ کسی گاؤں میں گئے اور پوچھا کہ یہاں کون کون آدمی رہتے ہیں؟ کوئی نمبر دار مل گیا تو اُس سے پوچھا کہ یہاں کونسا اچھا آدمی ہے کو نسائر اہے اور اُس کی کیا شہرت ہے ؟ اب ممکن ہے وہ شخص چند آدمیوں کا دشمن ہو اور ممکن ہے کہ چند آدمیوں کا دوست ہو۔ہم نے دیکھا ہے ایک آدمی سے پوچھو تو وہ کچھ آدمیوں کی تعریف کر دیتا ہے اور دوسرے آدمیوں سے پوچھو تو وہ اُن کی مذمت کر دیتے ہیں۔غرض اِس طرح کی باتیں سُن کر لازما وہ مجبور ہوتا ہے کہ اُن باتوں کو لے اور دوسروں کو پہنچا دے۔اسی طرح ہم نے دیکھا ہے بعض دفعہ عورتوں سے پوچھ لیتے ہیں، ملازموں سے پوچھ لیتے ہیں، ہمسایوں سے پوچھ لیتے ہیں اور اس طرح اپنی ڈائری مکمل کر لیتے ہیں۔اس میں بہت سی باتیں سچی بھی ہوتی ہیں اور بہت سی باتیں غلط بھی ہوتی ہیں۔روحانی ڈائری نویس يَعْلَمُونَ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ ہم نے جو یہ ڈائری نویس مقرر مَا تَفْعَلُونَ کا مصداق ہوتے ہیں! کئے ہیں یہ کسی سے پوچھ کر نہیں لکھتے بلکہ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ جو کچھ تم کرتے ہو وہاں تک اُن کو اپروچ (APPROACH) حاصل ہے اُن کو پہنچ حاصل ہے اور تم جو بھی کام کرتے ہو اُن کی نظر کے نیچے ہوتا ہے۔پس وہ 199191