انوارالعلوم (جلد 25) — Page 414
انوار العلوم جلد 25 414 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات چنانچہ فتنہ تو اب کھڑا کیا گیا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے 1950ء میں ہی کو ئٹہ کے مقام پر مجھے بتا دیا تھا کہ بعض ایسے لوگوں کی طرف سے فتنہ اٹھایا جانے والا ہے جن کی رشتہ داری میری بیویوں کی طرف سے ہے۔چنانچہ دیکھ لو عبد الوہاب میری ایک بیوی کی طرف سے رشتہ دار ہے۔میری اس سے جدی رشتہ داری نہیں۔پھر میری ایک خواب جنوری 1935ء میں الفضل میں شائع ہو چکی ہے اس میں بتایا گیا تھا کہ میں کسی پہاڑ پر ہوں کہ خلافت کے خلاف جماعت میں ایک فتنہ پیدا ہوا ہے چنانچہ جب موجودہ فتنہ ظاہر ہوا اُس وقت میں مری میں ہی تھا۔پھر اس خواب میں میں نے سیالکوٹ کے لوگوں کو دیکھا جو موقع کی نزاکت سمجھ کر جمع ہو گئے تھے اور ان کے ساتھ کچھ اُن لوگوں کو بھی دیکھا جو باغی تھے۔یہ خواب بڑے شاندار طور پر پوری ہوئی۔چنانچہ اللہ رکھا سیالکوٹ کا ہی رہنے والا ہے۔جب میں نے اس کے متعلق الفضل میں مضمون لکھا تو خود اس کے حقیقی بھائیوں نے مجھے لکھا کہ پہلے تو ہمارا یہ خیال تھا کہ شاید اس پر ظلم ہو رہا ہے۔لیکن اب ہمیں پتہ لگ گیا ہے کہ وہ پیغامی ہے۔اس نے ہمیں جو خطوط لکھے ہیں وہ پیغامیوں کے پستہ سے لکھے ہیں۔پس ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ہم خلافت سے وفاداری کا عہد کرتے ہیں۔اب دیکھ لو 1934ء میں مجھے اس فتنہ کا خیال کیسے آسکتا تھا۔پھر 1950ء والی خواب بھی مجھے یاد نہیں تھی۔1950ء میں میں جب سندھ سے کوئٹہ گیا تو اپنی ایک لڑکی کو جو بیمار تھی ساتھ لے گیا۔اُس نے اب مجھے یاد کرایا کہ 1950ء میں آپ نے ایک خواب دیکھی تھی جس میں یہ ذکر تھا کہ آپ کے رشتہ داروں میں سے کسی نے خلافت کے خلاف فتنہ اٹھایا ہے۔میں نے مولوی محمد یعقوب صاحب کو وہ خواب تلاش کرنے پر مقرر کیا۔چنانچہ وہ الفضل سے خواب تلاش کر کے لے آئے۔اب دیکھو خدا تعالیٰ نے کتنی دیر پہلے مجھے اس فتنہ سے آگاہ کر دیا تھا اور پھر کس طرح یہ خواب حیرت انگیز رنگ میں پورا ہوا۔ہماری جماعت کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئیے کہ منافقت کی جڑ کو کاٹنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔اگر اس کی جڑ کو نہ کاٹا جائے تو وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ