انوارالعلوم (جلد 25) — Page 413
انوار العلوم جلد 25 413 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات تیاری کر لیں۔اور میں آپ کو یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ 1953ء میں تو پولیس اور ملٹری نے آپ کی حفاظت کی تھی لیکن اب وہ آپ کی حفاظت نہیں کرے گی کیونکہ اُس وقت جو واقعات پیش آئے تھے ان کی وجہ سے وہ ڈر گئی ہے۔جب وہ خاموش ہوئے تو میں نے کہا۔کرنل صاحب! پچھلی دفعہ میں نے کون سا تیر مارا تھا جو آب ماروں گا۔پچھلی دفعہ بھی خد اتعالیٰ نے ہی جماعت کی حفاظت کے سامان کئے تھے اور اب بھی وہی اس کی حفاظت کرے گا۔جب میر ا خدا زندہ ہے تو مجھے فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے۔میری اس بات کا کرنل صاحب پر گہرا اثر ہوا اچنانچہ جب میں ان کے پاس سے اُٹھا اور دہلیز سے باہر نکلنے لگا تو وہ کہنے لگے فیتھ از بلائنڈ (Faith is blind) یعنی یقین اور ایمان اندھا ہو تا ہے۔وہ خطرات کی پروا نہیں کرتا۔جب کسی شخص میں ایمان پایا جاتا ہو تو اُسے آگے آنے والے مصائب کا کوئی فکر نہیں ہوتا۔جب منافقین کا فتنہ اٹھا تو انہی کرنل صاحب نے ایک احمدی افسر کو جو اُن کے قریب ہی رہتے تھے بلایا اور کہا کہ میری طرف سے مرزا صاحب کو کہہ دینا کہ آپ نے یہ کیا کیا ہے اللہ رکھا کی بھلا حیثیت ہی کیا تھی۔اس مضمون سے اُسے بلا ضرورت شہرت مل جائے گی۔میں نے اس احمدی دوست کو خط لکھا کہ میری طرف سے کرنل صاحب کو کہہ دینا کہ آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ جماعت پر 1953ء والے واقعات دوبارہ آنے والے ہیں، آپ ابھی سے تیاری کر لیں۔اب جبکہ میں نے اس بارہ میں کارروائی کی ہے تو آپ نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ آپ خواہ مخواہ فتنہ کو ہوا دے رہے ہیں۔جب میں دوبارہ مری گیا تو میں نے اس احمدی دوست سے پوچھا کہ کیا میر اخط آپ کو مل گیا تھا اور آپ نے کرنل صاحب کو میر ا پیغام پہنچا دیا تھا؟ انہوں نے کہا ہاں میں نے پیغام دے دیا تھا اور انہوں نے بتایا تھا کہ اب میری تسلی ہو گئی ہے۔شروع میں میں یہی سمجھتا تھا کہ یہ معمولی بات ہے لیکن اب جبکہ پیغامی اور غیر احمدی عقلمندی دونوں فتنہ پردازوں کے ساتھ مل گئے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ اس سے زیادہ اور کوئی نہیں تھی کہ آپ نے وقت پر اس فتنہ کو بھانپ لیا اور شرارت کو بے نقاب کر دیا۔غرض خدا تعالیٰ ہر فتنہ اور مصیبت کے وقت جماعت کی خود حفاظت فرماتا ہے