انوارالعلوم (جلد 25) — Page 19
انوار العلوم جلد 25 19 سیر روحانی (8) میں نے مٹی سے آدمی بنانے ہیں اور عیسی علیہ السلام کی طرح ان کے ناک میں پھونکنا ہے تو وہ زندہ ہو کر آدمی بن جائیں گے۔بہر حال عیسی علیہ السلام خدا کے نبی تھے۔ان کے متعلق بھی یہی کہا جاتا ہے کہ چمگادڑ بناتے تھے۔تو چمگادڑوں نے تو نظار تیں کرنی نہیں۔اگر عیسی علیہ السلام والی خیالی اور وہمی طاقت بھی مجھے مل جائے تو میں چمگادڑ ہی بناؤں گا آدمی نہیں بناؤں گا اور چمگادڑوں نے تمہارا کیا کام کرنا ہے۔آدمی تو تم ہی نے دینے ہیں لیکن یہاں تو یہ حالت ہے کہ ہر کسے در کار خود با دین احمد کار نیست ہر شخص یہی کہتا ہے کہ میں باہر جاؤں گا اور ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ شاید اگلا پرائم منسٹر میں نے ہی یہاں ہونا ہے یا اگلا گورنر جنرل میں نے ہی ہونا ہے۔یا شاید بعض لوگ دل میں یہ غصہ رکھتے ہوں کہ ہمارے گورنر جنرل استعفی کیوں نہیں دیتے تا کہ میرا موقع آئے ، ہمارا پرائم منسٹر الگ کیوں نہیں ہوتا کہ میں آگے آؤں۔چاہے وہ ساری عمر ہیڈ کلرک بننے کے بھی قابل نہ رہا ہو لیکن امید یہی وہ کرتا ہے کہ میں ملک کا وزیر اعظم بنوں گا اور میں ملک کا گورنر جنرل بنوں گا اور میں کمانڈر انچیف بنوں گا۔اور اگر میں یہاں گیا تو زیادہ سے زیادہ مجھے تین چار سو مل جائے گا یہ کون سی بات ہے۔اور اگر اس طرح نوجوان پیچھے ہٹیں گے تو تم سمجھ سکتے ہو کہ کبھی تمہاری جماعت کی تنظیم ہو ہی نہیں سکتی۔یہ بڑھے کب تک کام چلائیں گے۔پھر اگر بڈھوں نے ہی آنا ہے تو یہ بڑھے جائیں گے تو ایک اور بڑھا آجائے گا۔ممکن ہے ساٹھ سال والے کو ہم نکالیں تو چھیاسٹھ سال والا آجائے۔چھیاسٹھ والا نکا لیں تو ستر والا آ جائے۔ستر والا نکالیں تو اسی والا آجائے۔پھر یہ ہو کہ روزانہ بازار میں اعلان کیا جاتا ہے کہ ناظر صاحب نے دفتر جانا ہے ذرا چار آدمی چار پائی اٹھانے کے لئے چاہئیں۔انہوں نے دفتر جا کر کام کرنا ہے۔جب تک نوجوان آگے نہیں آئیں گے یہ کام کس طرح ہو گا۔یہی حال وکالتوں کا ہے۔وکالتوں میں ذرا حالت نسبتاً اچھی ہے۔وکیل الا علیٰ پنشنز ہیں۔وکیل المال بھی پنشنز ہیں لیکن باقی وکالتیں نوجوانوں کے ہاتھ میں ہیں۔لیکن اب وہاں بھی دقت ہو رہی ہے کہ وقف کرنے والوں کی تعداد کم