انوارالعلوم (جلد 25) — Page 346
انوار العلوم جلد 25 سامنے زبانی بیان کی تھی۔346 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات سیدی عرض ہے کہ عاجز دسمبر 1954ء کے قافلہ کے ساتھ جو کہ جلسہ سالانہ قادیان جانے والا تھا بندہ لاہور جو دھامل بلڈ نگ گیا۔رات جو دھامل بلڈنگ میں گزاری۔صبح نماز فجر باجماعت پڑھنے کے بعد بیٹھے تھے کہ مولوی عبد الوہاب صاحب آگئے اور پوچھا کہ جماعت ہو گئی ہے۔بتانے پر کہ جماعت ہو چکی ہے۔انہوں نے خود اکیلے ہی نماز پڑھ لی۔اور وہیں بیٹھ گئے۔اس جگہ مختلف علاقہ جات سے آئے ہوئے دوسرے احمدی احباب بھی بیٹھے تھے مولوی عبد الوہاب صاحب کہنے لگے (جیسے کہ درس دیا جاتا ہے) کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اولاد کے لئے دنیاوی ترقیات کے لئے دعا فرمائی۔جیسے ”دے ان کو عمر و دولت“ لیکن حضرت خلیفہ اول نے اپنی اولاد کے لئے دنیا کے لئے دعا نہیں فرمائی بلکہ خدا کے سپر د کر دیا۔اب دیکھیں کہ حضور کی اولاد دنیا کے پیچھے لگ کر پریشانیوں تکلیفوں میں مبتلا ہے۔کیونکہ دنیا کے پیچھے لگ کر انسان سکون قلب حاصل نہیں کر سکتا ( اغلباً اس میں حضرت صاحبزادہ میاں شریف احمد صاحب کا بھی نام لیا تھا) اسی قسم کی اور باتیں بھی انہوں نے کہی تھیں۔جو کہ مشکوک ہونے کی وجہ سے درج کرنے سے قاصر ہوں۔لیکن تمام گفتگو کا جو مفہوم تھاوہ وہی تھا جو کہ خاکسار نے اوپر درج کر دیا۔مندرجہ بالا مفہوم کے متعلق میں اپنے پالنے والے خدا کو حاضر و ناظر جان کر حلف اٹھاتا ہوں کہ وہ بالکل وہی نکلتا ہے جو عاجز نے اوپر تحریر کر دیا ہے۔والسلام حضور کا تازیست فرمانبر دار رہنے والا خادم عاجز عبد القدوس احمدی نواب شاہ (سابق) سندھ 1956ء-7-30 " (الفضل 8 اگست 1956ء)