انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 270

انوار العلوم جلد 25 270 سیر روحانی نمبر (9) کوئی دو ہفتے ہوئے روس کی ایک خبر اخبارات میں چھپی ہے کہ روس میں آدمیوں کے بعض پرانے ڈھانچے ملے ہیں جو کہتے ہیں کہ کئی لاکھ سال کے ہیں اور اُن کی ہڈیاں پتھر بن چکی ہیں۔اِس سے معلوم ہوا کہ انسان کے لئے مرورِ زمانہ سے پتھر بننا ممکن تھا۔یوں تو پہلے کہتے تھے کہ پتھر کا کوئلہ بھی در حقیقت درختوں سے ہی بنا ہے مگر انسانوں کے متعلق اس وقت تک کوئی تحقیق نہیں ہوئی تھی۔اب یہ تازہ علم نکلا ہے کہ انسانوں کے بعض پرانے ڈھانچے ملے ہیں جن کی ہڈیاں پتھر بن چکی ہیں۔اور یہ بھی قرآن کہتا ہے کہ ارے میاں! اس میں تعجب کی کیا بات ہے ہڈیاں تو الگ رہیں وہ تو اِسی انسانی جسم کا حصہ ہیں تم پتھر بھی بن جاؤتب بھی خدا تمہیں پیدا کر سکتا ہے۔علم فلسفہ کی نہر 36 پھر علم فلسفہ ہے۔فلسفہ کے معنے ہوتے ہیں کسی چیز کی حکمت بیان کرنا۔اللہ تعالیٰ علیم فلسفہ کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے اور فرماتا ہے وَ اَنْزَلَ اللهُ عَلَيْكَ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَ عَلَيْكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا - 30 اللہ تعالیٰ نے تجھ پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور تجھے وہ کچھ علم سکھایا ہے جو پہلے تو نہیں جانتا تھا۔اس میں بتایا گیا ہے کہ ہر چیز کی حکمت ہوا کرتی ہے وہ حکمت سیکھنے کی کوشش کرو۔اسی حکمت کو فلسفہ کہتے ہیں جو قرآن کریم میں بیان ہے۔مثلاً تاریخ تو یہ ہے کہ اور نگ زیب کوئی بادشاہ تھا، اکبر کوئی بادشاہ تھا اور یہ بحث کہ اکبر ترک تھا یا مغل ؟ وہ ہندوستان میں کیوں آیا؟ اس کے ملک میں کیا حالات پید اہوئے تھے جن کی وجہ سے وہ اپنا ملک چھوڑ کر ہندوستان آیا؟ اور کونسے حالات پیدا ہوئے کہ جن کی وجہ سے اس نے تھوڑی سی فوج سے جو صرف چند ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھی چالیس کروڑ کے ملک کو فتح کر لیا؟ (گو اُسوقت تو چالیس کروڑ نہیں تھے صرف دو کروڑ کی آبادی تھی) یہ چیز ہے جو فلسفہ کہلاتی ہے۔اسی طرح یہ مواد کہ اُن کے ملک میں اچھی غذا نہیں ہوتی تھی، اچھی زمینیں نہیں تھیں اور ادھر ہندوستان میں لڑائیاں تھیں، فساد تھے، جھگڑے تھے جنکی وجہ سے اُس کی فوج تھوڑی دیر میں ہی غالب آگئی یہ فلسفہ ہے۔غرض فلسفہ تاریخ اور چیز ہے اور تاریخ اور چیز ہے۔دیباچہ ابن خلدون جو ہماری ایک مشہور کتاب ہے