انوارالعلوم (جلد 25) — Page 269
انوار العلوم جلد 25 269 سیر روحانی نمبر (9) وہ آیت لکھوا دیں۔چنانچہ میں نے اپنے سیکرٹری کو بلا کر کہا کہ یہ آیت اسے لکھ کر دیدیں۔وہ کہنے لگا مجھے اس کا بالکل علم نہیں تھا یہ تو بالکل نیا علم ہے اور ابھی ہندوستان میں شروع بھی نہیں ہوا۔میں پہلا آدمی ہوں جس نے اس کی تحقیقات شروع کی ہے اور یورپ کی سٹڈی (STUDY) کر کے مجھے اس کام پر مقرر کیا گیا ہے۔میں نے کہا۔سات سو من ہی نہیں قرآن کریم کہتا ہے کہ وَاللهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ اللہ تعالیٰ چاہے تو سات سو سے بھی بڑھا دے۔کہنے لگا میری تحقیقات اسوقت تک صرف اتنی ہی ہے کہ ہمارے ملک میں اتنے کیمیاوی اجزاء موجود ہیں کہ فی ایکڑ اڑھائی سو من تک گندم پیدا ہو سکتی ہے۔مگر جو باہر کی کتابیں میں نے پڑھی ہیں اُن سے چار سو من تک پتہ چلتا ہے۔میں نے کہا۔پھر اُن کتابوں سے بھی بڑھ کر قرآن کریم میں علم موجود ہے قرآن کہتا ہے کہ فی ایکڑ سات سو من تک گندم ہو سکتی ہے۔اب دیکھو اس میں علم کیمیا کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ہم زمین کو دیکھیں کہ وہ اجزاء جن سے گندم پیدا ہوتی ہے یا کپاس پید اہوتی ہے زمین میں کسقدر موجود ہیں۔اور گندم کا دانہ یا کپاس کا بیج اُن اجزاء سے آگے کتنے زیادہ بیج پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔اسی طرح فرماتا ہے وَقَالُوا وَإِذَا كُنَّا عِظَامًا وَ رُفَاتًا وَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِيدًا - قُلْ كُونُوا حِجَارَةً أَوْ حَدِيدًا اَوْ خَلْقًا مِّمَّا يَكْبُرُ فِي صُدُورِكُمْ فَسَيَقُولُونَ مَنْ يُعِيدُنَا قُلِ الَّذِي فَطَرَكُمْ أَوَّلَ مَزَةٍ - 33 یعنی کفار کہتے ہیں کہ جب ہم ہڈیاں ہو جا ئینگے اور چورا ہو جائینگے تو کیا پھر ہم کو ایک نئی پیدائش میں اُٹھایا جائے گا؟ تُو اُن کو کہہ دے کہ ہڈیاں اور چورا ہونا تو الگ بات ہے اگر پتھر بھی بن جاؤ یا لوہا بھی بن جاؤ تب بھی خدا تعالیٰ تمہیں پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔مرور زمانہ سے انسانی جسم کا پتھر بن جانا اب بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ نَعُوذُ بِاللہ ایک ڈھکوسلا ہے کہ پتھر بن جاؤ یالو ہا بن جاؤ پھر بھی خدا تعالیٰ تمہیں زندہ کرے گا۔ایک کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ آدمی نے پتھر کس طرح بننا ہے یو نہی قرآن نے ایک ڈھکوسلا مار دیا ہے۔لیکن ابھی