انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 253

انوار العلوم جلد 25 253 سیر روحانی نمبر (9) وہ ایک گھماؤں میں سے ساری دنیا کی ضرورتیں پوری کرنا چاہتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ فائدہ نہیں اٹھاتے۔اگر وہ کام کو تقسیم کریں تو وہ کہیں کہ میری گندم اگر بجائے پانچ من کے سو من ہو گی تو میں تین میل سے سبزیاں اور ترکاریاں خرید کر لے آؤں گا۔کیونکہ میرے پاس روپیہ ہو گا میں اپنی زمین کیوں ضائع کروں۔تو یہ بڑا اہم معاملہ ہے جو جماعت کو بڑھنے اور اس کو ترقی دینے کے لئے نہایت ضروری ہے۔نظارت تعلیم کو ضروری ہدایت اسی طرح نظارت تعلیم کو چاہئے کہ وہ جو انسپکٹر بھیجتے ہیں اُن پر اور کاموں کے علاوہ ایک یہ ذمہ داری بھی ڈالیں کہ وہ دیکھیں کہ جماعت کا ہر لڑکا پڑھ رہا ہے۔اب وہ بھیجتے ہیں تو اس لئے کہ فلاں جگہ پر پرائمری سکول کھول آئے حالانکہ ہر ضلع میں دو ہزار گاؤں ہو تا ہے اور صرف پنجاب کے سولہ اضلاع تھے۔بتیس ہزار گاؤں میں سے کسی ایک گاؤں میں پرائمری سکول کھول کر ہم کون سا تیر مار لیں گے۔لیکن اگر ہمارا آدمی جاکر ہر احمدی کو مجبور کرے کہ اپنے بیٹے کو پڑھا تو کوئی نہ کوئی سرکاری سکول یا قومی سکول، پرائمری یا مڈل پاس ہو گا۔اس میں وہ اسے تعلیم کے لئے بھجوا سکتا ہے۔پس بجائے اس کے کہ وہ کوئی پرائمری سکول کھولیں لوگوں کو مجبور کریں کہ وہ اپنے لڑکوں کو قریب کے سکول بھیجا کریں یا جو لڑ کے پڑھ رہے ہوں ان کو کتابیں لے دیا کریں، کسی کو فیس دے دیا ہیں۔یہ پرائمری سکول کھولنے سے زیادہ اچھا طریق ہے۔اسی طرح ایک مولوی علاقہ میں مقرر کریں جو پھر پھر کے لوگوں کو وعظ اور تبلیغ کیا کرے اور بچوں کی تربیت کرے، ان کو قرآن پڑھائے ، اسی طرح عورتوں کو بھی قرآن پڑھائے۔اگر اس طریق پر عمل کیا جائے تو پھر بے شک نظارت تعلیم کا فائدہ ہو سکتا ہے۔لیکن ہمارے زمیندار میں چودھر ایت کا شوق ہوتا ہے۔وہ آجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے پرائمری سکول کھولنا ہے۔وہ صرف یہ فخر حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ لوگ کہیں کہ چودھری صاحب نے اپنے علاقہ میں پرائمری سکول کھولا ہے۔یہ نہیں دیکھیں گے کہ قوم نے کتنا فائدہ اٹھایا ہے صرف یہ دیکھیں گے کہ اس طرح ہمارا نام روشن ہوتا ہے۔حالانکہ نام روشن کرنے کی