انوارالعلوم (جلد 25) — Page 252
252 سیر روحانی نمبر (9) انوار العلوم جلد 25 بنائیں اور تحریک والے بھی انجمن کے ساتھ ہی جائیں۔بے شک وہ وکیل الزراعت ہیں لیکن اگر بعض صیغوں کو ملا دیا جائے تو اس سے فائدہ ہو سکتا ہے۔اور وہ بڑا اچھا کام کرنا جانتے ہیں۔خود اچھے بڑے زمیندار ہیں ، نواب محمد دین صاحب کے بھیجے ہیں اور ان کے لائلپور میں مربعے ہیں اور ولایت میں بھی رہے ہیں۔میرے نزدیک وہ ان باتوں کو سمجھتے ہیں۔اور سید عبد الرزاق شاہ صاحب کو بھی میں نے دیکھا ہے ان معاملات میں بہت ہی سمجھدار ہیں۔ان کو میں نے سندھ میں زراعت پر لگایا ہوا تھا۔وہ ان باتوں کو خوب سمجھتے ہیں۔پھر وکالت کے پاس زراعت کا ایک گریجوایٹ بھی ہے اس نے لائلپور کالج میں زراعت کی تعلیم حاصل کی ہے اور اس نے زندگی وقف کی ہوئی ہے۔بے شک ابھی وہ ناتجربہ کار بچہ ہے لیکن شروع میں بچے ایسے کام کر لیتے ہیں۔آہستہ آہستہ تجربہ کار ہو جاتے ہیں۔تو سکیم بنائی جائے کہ کس کس علاقہ میں کیا کیا فصل ہو سکتی ہے اور اس فصل کے اعلیٰ پھل پیدا کرنے کا کیا طریقہ ہے۔پھر ہر زمین والوں کو کہہ دیا جائے کہ تم نے یہی فصل یہاں بونی ہے جو اچھی ہو سکتی ہے۔دیکھو ! روس نے اس طریق سے اپنے ملک میں سو گنازیادہ پیداوار کر لی ہے۔وہ ڈنڈے کے زور سے کرتے ہیں تم ایمان کے زور سے کر لو گے۔انہوں نے اپنے سارے علاقے تقسیم کر لئے ہیں کہ یہاں گندم اچھی ہوتی ہے ، یہاں چاول اچھا ہوتا ہے، یہاں گنا اچھا ہوتا ہے، یہاں کپاس اچھی ہوتی ہے اور گندم بونے والے علاقہ میں سب کو قانوناً حکم دے دیتے ہیں کہ گندم کے سوا تم نے کپاس ہوئی تو ہم تمہیں قید کر دیں گے ، اگر تم نے چاول بویا تو تمہیں قید کر دیں گے ، اگر کوئی اور چیز بوئی تو قید کر دیں گے۔کپاس والوں کو کہتے ہیں کہ اگر تم نے گندم ہوئی تو قید کر دیں گے۔چنانچہ جس علاقہ میں کپاس اچھی ہوتی ہے اُس علاقہ میں سب کپاس کاشت کرتے ہیں۔جس میں گندم اچھی ہوتی ہے اس میں سارے گندم ہوتے ہیں۔لیکن ہمارے ملک کا یہ طریق ہے کہ چودھری صاحب کے پاس تین گھماؤں زمین ہے۔اس میں سے وہ دو کنال گندم بوئے گا، ایک کنال کماد، ایک کنال چارہ ، کوئی ایک کنال یا دس مرلے چاول، کوئی دو چار مرلے ساگ۔بس ایسی چیزیں بو کے