انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 225

متفرق امور انوار العلوم جلد 25 225 تمبر ویسٹ افریقہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت مضبوط ہو رہی ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ وہاں بھی انگریز مخالفت کر رہا ہے۔گیمبیا کے علاقہ میں ہمارے مبلغ نے جانا تھا وہاں ایک بڑا معزز خاندان ہے۔اس خاندان کا ایک آدمی جو احمدی نہیں ہے گورنمنٹ کا سیکرٹری ہے۔انہوں نے ہم سے مبلغ مانگا ہے۔جب مبلغ نے درخواست دی تو وہاں کے گورنر نے ایک میٹنگ بلائی جس میں تمام علماء بلوائے اور ان سے کہا کہ کیا احمدیت کی تبلیغ کی اجازت ہے ؟ تو انہوں نے کہا نہیں۔پھر کہہ دیا کہ چونکہ علماء کہتے ہیں کہ اجازت نہیں اس لئے میں اجازت نہیں دیتا۔ویسٹ افریقہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اس وقت تک چار پانچ احمدی اسمبلی کے ممبر ہو چکے ہیں اور ایک صوبہ کا وزیر تو احمدی ہے۔اب ہم نے وہاں اور قابل اور عربی دان مبلغ بھجوانے ہیں کیونکہ گورنمنٹ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر ہم وہاں عربی کالج قائم کریں تو وہ آرڈر دے دیں گے کہ کسی سکول میں اس کالج کے پڑھے ہوئے طلباء کے علاوہ کوئی اُستاد نہ لیا جائے۔جماعت کو میں نصیحت کرتا ہوں (چودھری ظفر اللہ خان صاحب بھی یہاں بیٹھے ہیں ان کو بھی توجہ دلاتا ہوں) کہ ہمارے نظام میں ابھی کچھ کمزوریاں ہیں۔یورپین نظام ایسا ہے کہ خرابی ہوتی ہے تو پبلک دباؤ کے ساتھ حکومت ٹھیک ہو جاتی ہے۔ہمارے ہاں اب تک پبلک دباؤ کی کوئی صورت نہیں نکالی گئی۔پس ایسی کوئی تجویز سوچیں کہ آئندہ جماعت کے اندر بیداری پیدا ہو اور وہ زور ڈال کے صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کو ٹھیک کیا کرے، فتنہ و فساد بھی نہ ہو ، خلافت کا مقام بھی قائم رہے اور جماعت کو ایسا موقع بھی ملے کہ وہ اپنی رائے کے ساتھ صدر انجمن احمد یہ اور تحریک کو مجبور کر سکیں کہ صحیح کام کرو اور وقت پر کام کیا کرو۔اس طرح دوستوں کو وقف کی طرف توجہ کرنی چاہیئے۔اب کام اتنا بڑھ چکا ہے کہ بغیر اس کے سر انجام نہیں دیا جا سکتا۔میری بیماری میں بڑا خطرہ تھا مگر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا۔اُس نے ناصر احمد میرے لڑکے کو توفیق دے دی اور اختر صاحب کو وقف کی توفیق دی کہ وہ نوکری سے فارغ ہو کر آگئے اور ان لوگوں نے میرے پیچھے کام سنبھال لیا۔اب خدا کے فضل سے انجمن کا کام بڑی