انوارالعلوم (جلد 25) — Page 224
انوار العلوم جلد 25 224 متفرق امور اسی طرح میں نے ایک مبلغ کو بورنیو بھیجا ( بورنیو کو انڈو نیشین زبان میں کالی منتن KALIMANTAN کہتے ہیں) وہ مبلغ لکھتا ہے کہ جب میں یہاں پہنچا تو ایک دوست کا انٹروڈکشن کا خط ایک گورنر کے سیکرٹری کے نام لے گیا۔اُس کو ملا تو وہ کہنے لگا کہ کل آنا میں تمہیں گورنر سے ملا دوں گا۔دوسرے دن گیا تو اتفاقاً وہ گور نر اُس روز دورہ پر تھا اس سے تو ملاقات نہ ہو سکی لیکن اس سیکر ٹری سے بڑی لمبی ملاقات ہوئی۔وہ سیکر ٹری کہنے لگا میں آپ کو گورنر سے ملوانا چاہتا ہوں اور خود بھی میں نے آپ سے باتیں کی ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ میرا سارا خاندان احمدی ہے لیکن میں ہی بد قسمت ہوں جو احمدی نہیں۔اور میں سمجھتا ہوں کہ میں اپنی بد عملی کی وجہ سے ابھی تک احمدی نہیں ہوا ور نہ میر ا سارا خاندان احمدی ہے اور میرا باپ اور بھائی وغیرہ سب آپ کی جماعت میں شامل ہیں۔پھر انہوں نے لکھا کہ دوسرے دن ہی وہاں کی ایک بہت بڑی مجلس اسلامی جو کبھی احمدیوں کو قریب نہیں آنے دیتی تھی اُس نے ایک جلسہ کیا جس میں ہزاروں آدمی آئے تھے اور انہوں نے مجھے کہا کہ آپ تقریر کریں۔اسی طرح نارتھ بور نیو جو انگریزوں کے ماتحت ہے وہاں سے چٹھی آئی ہے کہ وہاں کا ایک رئیس احمدی ہو گیا ہے اور وہ اپنی زمین میں مسجد بنوا رہا ہے۔مگر وہ کہتے ہیں کہ انگریز اپنی عادت کے خلاف ( جو دوسری جگہ پر ہے) سختی سے مخالفت کر رہے ہیں۔چنانچہ انہوں نے بڑے بڑے لیڈروں کی ایک میٹنگ بلوائی اور اُن سے ایسے قوانین پاس کروانے چاہے کہ جن کی وجہ سے احمدیت کی تبلیغ رُک جائے۔لیکن وہ شخص ابھی تک خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت پر قائم ہے اور تبلیغ ہو رہی ہے بلکہ آخری اطلاع یہ تھی کہ وہاں اور بھی احمدی ہوئے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ اگر گور نمنٹ دخل نہ دے تو شاید سارے کا سارا علاقہ اور قبیلہ احمدی ہو جائے گا۔احباب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ وہاں کے انگریز حکام کو عقل دے اور وہ خواہ مخواہ دین کے راستہ میں روکیں نہ ڈالیں۔اور اللہ تعالیٰ ہمارے نو مسلموں کے دلوں کو مضبوط کرے اور وہ عیسائیوں اور حکومت کے دباؤ سے مرعوب نہ ہوں۔