انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 223

انوار العلوم جلد 25 223 یو۔این۔او کی طرف سے مقرر تھا۔وہاں بھی میں نے جاپانیوں میں بڑا تقسیم کیا ہے۔اس رسالہ کا جر من ترجمہ کرنے کی مجھے اجازت دی جائے۔میں نے کہا کر لو۔یہ ہے ہی اسی لئے۔کہنے لگا میں کر تو لوں مگر میں ابھی مسلمان نہیں، بدھ ہوں۔ایسانہ ہو کہ میں غلطی کر جاؤں اور پوری طرح اسلام کو سمجھوں نہیں۔میں نے کہا ہمارا یہاں مبلغ بیٹھا ہے اِس سے مشورہ کر لینا ( بعد میں پتہ لگا کہ اس کا جرمن ترجمہ ہو چکا تھا) پھر وہ واپس گیا اور دوسرے دن ہی اُس کا خط آیا۔حالانکہ میرے خیال میں وہ مکان زیورک سے کوئی دوسو میل دور ہو گا۔ایک خط خلیل ناصر صاحب کو آیا اور ایک شیخ ناصر صاحب مبلغ کو آیا۔شیخ ناصر صاحب کے خط میں اُس نے لکھا کہ میں اب تک مسلمان نہیں لیکن میری فطرت یہ ہے کہ جب میں یہ دیکھوں کہ کسی پر ظلم ہو رہا ہے تو میں اُس کی تائید میں اپنی جان لڑا دیتا ہوں۔اس رسالہ کو پڑھ کر مجھے پتہ لگ گیا ہے کہ اسلام پر بڑا ظلم ہو رہا ہے اس لئے میں نے اسلام کے دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہے۔آپ یہاں آئیں اور تقریر کریں۔میں کوشش کروں گا اور ہزاروں آدمی آپ کی تقریر کے سننے کے لئے جلسہ میں آئیں گے۔اب خط آیا ہے کہ اُس نے جلسہ کا انتظام کر لیا ہے اور ہمارے مبلغ کو بلایا ہے کہ آکر تقریر کرو۔اسی طرح اور ممالک میں بھی اللہ تعالیٰ خود بخود سامان کر رہا ہے مثلاً ابھی انڈونیشیا سے ایک احمدی کا خط آیا کہ میں بازار میں جارہا تھا کہ جمعیۃ العلماء کا ایک چوٹی کا لیڈر مجھے ملا۔(جس طرح یہاں علماء کی ایک انجمن ہے اسی طرح وہاں بھی جمعیۃ العلماء ہے) میں پہلے اسے سلام کیا کرتا تھا تو وہ منہ پھیر لیتا تھا مگر اُس روز اُس نے رستہ چھوڑ کر مجھ سے آکر مصافحہ کیا اور بڑی محبت سے ملا۔اُس نے دیکھا میر ارنگ متغیر ہو گیا ہے۔کہنے لگا کیوں بات کیا ہے ؟ میں نے کہا میں تو سلام کیا کرتا تھا اور آپ منہ پھیر لیا کرتے تھے۔اب آپ نے خود مصافحہ کیا اور بڑے شوق سے ملے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ کہنے لگا بھائی ! وہ پرانی باتیں بھول جاؤ۔اب اسلام ایسے نازک دور میں ہے کہ اگر ہم نے صلح نہ کی تو اسلام تباہ ہو جائے گا۔اس لئے اب آئندہ وہ باتیں نہیں ہوں گی۔اب ہم تم سے محبت کرتے ہیں۔حالانکہ وہ شدید دشمن تھا اور جمعیۃ العلماء کا ممبر تھا۔