انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 96

انوار العلوم جلد 25 96 احباب جماعت کے نام پیغامات اس میں آیا ہے مگر جتنی ضرورت ہے اتنا نہیں آیا۔اس لئے میں اپنے محبوں اور مخلصوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ فیصلہ جو خود اُن کا ہے کم سے کم اُسے پورا کرنے کی کوشش کریں تاکہ غیروں کے سامنے شرم اور ذلت محسوس نہ ہو۔اس موقع پر میں یہ کہنے میں بھی فخر محسوس کرتا ہوں کہ مجھے جو شکوہ پیدا ہوا تھا کہ اس سال تحریک کے وعدے پورے نہیں آرہے خدا تعالیٰ نے جماعت کو اس شکوہ کے دُور کرنے کی توفیق بخش دی ہے اور اب خدا تعالیٰ کے فضل سے آج کی تاریخ تک قریباً چھ ہزار کے وعدے زائد آچکے ہیں اور موجودہ رفتار پر قیاس رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ میعاد کے آخر تک اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے چالیس پچاس ہزار روپے کے وعدے بڑھ جائیں گے۔دنیا کی نظروں میں یہ بات عجیب ہے مگر خدائے عجیب کی نظر میں یہ بات عجیب نہیں کیونکہ اُس کے مخلص بندوں کے ہاتھوں سے ایسے معجزے ہمیشہ ہی ظاہر ہوتے چلے آئے ہیں اور قیامت تک ظاہر ہوتے چلے جائیں گے۔پہلے بھی خدا تعالیٰ ایسے ہی بندوں کے چہروں سے نظر آتارہا ہے اور اب ہمارے زمانہ میں بھی ایسے ہی انسانوں کے چہروں سے خدا نظر آئے گا اور ان کے دلوں اور ایمانوں سے ایسے معجزے ظاہر نہیں ہوں گے بلکہ برسیں گے۔منکر انکار کرتے چلے جائیں گے، جبرائیل کا قافلہ بڑھتا چلا جائے گا اور آخر عرش تک پہنچ کر دم لے گا۔عرش کا راستہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات اپنی اُمت کے لئے کھول دیا ہوا ہے۔اب کوئی ماں ایسا بیٹا نہیں جنے گی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کھولا ہوا راستہ بند کر سکے۔شیطان حسد سے مر جائے گا مگر خدا تعالیٰ کی مدد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شیطانی حسد کی آگ سے بچالے گی۔دوزخ چاہے گندھک کی آگ کی بنی ہوئی ہو یا حسد کی آگ سے ، صاحب الفلق رسول اس سے محفوظ کیا گیا ہے اور قیامت تک محفوظ رہے گا۔دوزخ کے شرارے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے لئے ہیں۔اس کے دوستوں کے لئے کوثر کا خوشگوار پانی اور جنت کے ٹھنڈے سائے ہیں۔صرف اتنی ضرورت ہے کہ وہ ہمت کر کے ان سایوں کے نیچے جا بیٹھیں اور آگے