انوارالعلوم (جلد 25) — Page 75
انوار العلوم جلد 25 75 سیر روحانی (8) ملک پر قبضہ کیا اور قریباً ایک سو سال حکومت کی۔اس کے بعد وہ حکومت بدل گئی اور پھر یہو دی اپنے ملک پر قابض ہو گئے۔رومیوں کا فلسطین پر قبضہ پھر مسیح کے بعد رومی لوگوں نے پھر اس ملک پر حملہ کیا اور اس کو تباہ اور برباد کیا۔اسی طرح مسجد کو تباہ کیا اور اُس کے اندر سور کی قربانی کی اور اس پر ان کا قبضہ رہا لیکن آخر رومی بادشاہ عیسائی ہو گیا۔اس لئے یہاں یہ نہیں فرمایا کہ یہودیوں کو یہ جاگیر واپس کی جائیگی۔پہلی جگہ تو فرمایا ہے کہ واپس کی جائیگی یعنی وہاں سے واپس ہو کر یہودیوں کو ملے گی۔مگر دوسری جگہ یہ نہیں فرمایا کہ واپس کی جائیگی بلکہ یہ فرمایا ہے کہ پھر ہم تم پر رحم کریں گے یعنی تمہاری وہ بے عزتی دُور ہو جائے گی۔چنانچہ جب رومی بادشاہ عیسائی ہو گیا تو پھر وہ موسیٰ کو بھی ماننے لگ گیا، داؤد کو بھی ماننے لگ گیا، اسی طرح باقی انبیاء جس قدر تھے اُن کو بھی ماننے لگ گیا۔تھا وہ عیسی کو ماننے والا لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی چونکہ موسوی سلسلہ میں سے تھے ، عیسائی بادشاہت یہودی نبیوں کا بھی ادب کرتی تھی، تو رات کا بھی ادب کرتی تھی بلکہ تو رات کو اپنی مقدس کتاب سمجھتی تھی گویا خدا کا رحم ہو گیا گو یہودیوں کے ہاتھ میں حکومت نہیں آئی بلکہ عیسائیوں کے ہاتھ میں چلی گئی۔مسلمانوں کے فلسطین پر قبضہ کی پیشگوئی مگر فرماتا ہے کہ اس کے بعد وَإِن عُدتم عدنا اگر تم لوگ پھر بگڑے تو ہم تمہارے ہاتھ سے یہ بادشاہت نکال لیں گے۔اب تم میں عیسائی بھی شامل ہو گئے کیونکہ وہ بھی یہودیوں کا ایک گروہ تھے اور بتایا کہ اگر تم نے پھر کوئی شرارت کی تو پھر ہم تمہارے ہاتھ سے یہ بادشاہت نکال لیں گے۔پھر مسلمان آجائیں گے اور اُن کے قبضہ میں یہ جاگیر چلی جائیگی اور وہ عِبَادِيَ الصُّلِحُونَ بنیں گے اور تمہارے لئے پھر جہنم بن جائے گا یعنی تم ہمیشہ گڑھتے ہی رہنا۔غرض اس جاگیر کے ساتھ یہ شرطیں لگائی گئیں کہ :- (1) یہ جاگیر چھین کر ایک اور قوم کو دے دی جائینگی۔