انوارالعلوم (جلد 25) — Page 76
انوار العلوم جلد 25 76 سیر روحانی (8) (2) کچھ عرصہ کے بعد پھر یہ جاگیر تم کو واپس مل جائیگی۔(3) کچھ عرصہ کے بعد پھر تم سے چھین لی جائیگی۔(4) پھر یہ جاگیر تمہاری قوم کے پاس واپس آجائیگی مگر تمہارے اپنے ہاتھ میں نہیں آئے گی موسوی سلسلہ کے ماننے والوں یعنی عیسائیوں کے ہاتھ میں آجائیگی۔(5) مگر تم پھر شرارت کرو گے تو پھر اُن سے بھی چھین لی جائیگی اور ایک اور قوم کو دے دی جائے گی یعنی مسلمانوں کو۔مگر اس جگہ یہ نہیں مسلمانوں کی نگاہ میں عبادت گاہوں کا احترام فرمایا کہ وہ مسجد میں داخل ہو کر اُس کی ہتک کریں گے۔دیکھو! پہلے دو مقامات پر فرمایا کہ وہ مسجد میں جاکر اُس کی ہتک کریں گے مگر یہ تیسری دفعہ جو عذاب آنا ہے اور جس میں اُن کے ہاتھ سے یہ جاگیر لی جانی ہے اس کے متعلق یہ نہیں فرماتا کہ وہ مسجد کی ہتک کریں گے اس لئے کہ مسلمانوں کے نزدیک بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اُن کے تمام ماتحت انبیاء مقدس تھے ، ان کی جگہیں بھی مقدس تھیں اس لئے مسلمان اُن کی مسجدوں میں بھی وہ خرابی نہیں کر سکتے تھے جو بابلیوں اور رومیوں نے کی۔یورپین مؤرخین کی تعصب آلود ذہنیت یہ مجیب لطیفہ اور قوموں کی ناشکری کی مثال ہے کہ بابلیوں نے یہودیوں کے ملک کو تباہ کیا اور ان کی مسجد کو ذلیل کیا۔یورپین مصنف کتابیں لکھتے ہیں تو بابلیوں کو کوئی گالی نہیں دیتا، کوئی ان کو بُرا نہیں کہتا، کوئی ان پر الزام نہیں لگاتا۔رومیوں نے اس ملک کو لیا اور اس مسجد میں خنزیر کی قربانیاں کیں۔عیسائی رومی تاریخ پر کتابیں لکھتے ہیں۔مثلاً گبن نے ”دی ڈیکلائن اینڈ فال آف دی رومن ایمپائر (The Decline and Fall of the Roman Empire) لکھی ہے مگر جتنی کتابوں کو دیکھ لو وہ کہتے ہیں رومن ایمپائر جیسی اچھی ایمپائر کوئی نہیں حالانکہ انہوں نے اُن کی مسجد کو گندہ کیا مگر وہ قوم جس نے اُن کی مسجد کو گندہ نہیں کیا اُس کو