انوارالعلوم (جلد 25) — Page 63
انوار العلوم جلد 25 63 سیر روحانی (8) بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کی اعلیٰ توبہ کی وجہ سے اُن کی دلداری کے لئے اور ان کے دلوں کو تسکین دینے کے لئے اُن کے گناہوں کو بھی نیکی کے ثواب میں بدل دیتا ہے۔روحانی انعامات کو کوئی شخص پھر اس سے اوپر میں نے دیکھا کہ اس دفتر میں جن لوگوں کے لئے انعام مقرر ہوئے تھے چھیننے کی طاقت نہیں رکھتا انہیں کوئی چھین نہیں سکتا تھا۔بر خلاف دنیوی انعاموں کے کہ یہاں ایک بادشاہ دیتا ہے اور دوسر ا چھین لیتا ہے بلکہ بعض دفعہ وہ بادشاہ آپ ہی چھین لیتا ہے۔ایک جرنیل کی معزولی دیکھ کر حضرت شبلی تاریخ میں قصہ آتا ہے کہ حضرت شبلی علیہ الرحمۃ جو کا رونا اور اپنے گناہوں سے توبہ کرنا حضرت جنید بغدادی" کے شاگر د تھے پہلے وہ بڑے ظالم ہوتے تھے۔امیر آدمی تھے اور ایک صوبہ کے گورنر تھے انہوں نے اپنی گورنری کے زمانہ میں بڑے بڑے ظلم کئے تھے۔اُس زمانہ میں عباسی بادشاہ کے خلاف ایران میں کوئی بغاوت ہوئی کئی جرنیل بھجوائے گئے مگر انہوں نے شکست کھائی اور وہ دشمن کو مغلوب نہ کر سکے۔آخر بادشاہ نے ایک جرنیل کو چنا جو بہت دلیر تھا اور اُس کو کہا کہ تم جاؤ اور جاکر دشمن کو شکست دو یہ کام تم سے ہو گا۔وہ گیا اور چھ مہینے سال اُس نے بڑی بڑی مصیبتیں اُٹھائیں، تکلیفیں جھیلیں اور آخر ہمت کر کے اُس نے دشمن کو شکست دی اور وہ علاقہ بادشاہ کے لئے فتح کیا۔واپس آیا تو بادشاہ نے ایک بڑا در بار اُس کے اعزاز میں منعقد کیا اور کہا کہ اس کو خلعت دیا جائے۔چنانچہ وہ دربار میں آیا اور اُس کو خلعت پہنایا گیا۔پرانے زمانہ میں یہی طریق رائج تھا جیسے آجکل خطاب وغیرہ دیتے ہیں تو دربار لگتے ہیں اسی طرح دربار لگایا گیا۔اتفاقا شبلی بھی اُن دنوں اپنے کام کی کوئی رپورٹ دینے آئے ہوئے تھے چنانچہ وہ بھی دربار میں بُلائے گئے۔سب لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور اوپر وہ جرنیل بیٹھا ہوا تھا کہ بادشاہ نے پہلے اس کی تعریف میں کچھ کلمات کہے ، اس کے بعد کہا کہ اس کو خلعت پہنایا جائے۔چنانچہ اسے ایک طرف کمرہ میں