انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 58

انوار العلوم جلد 25 58 سیر روحانی (8) انْطَقَنَا اللَّهُ الَّذِي انْطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ خَلَقَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ 17 جب اُن کے ہاتھوں نے اور پیروں نے گواہیاں دینی شروع کیں تو انہوں نے کہا ارے کمبختو! تم تو ہمارا حصہ تھے۔ اے کان! تو میرا تھا، اے آنکھ تو میری تھی، اے زبان ! تو میری تھی، اے جلد ! تو میری تھی، اسے ہاتھ ! تم میرے تھے ، اے پاؤں! تم میرے تھے کمبختو! تمہی نے میرا بیڑا غرق کرنا تھا کہ یہ باتیں کرنی شروع کر دیں۔ صرف جلد کا انتخاب اُس کے نمائندہ اس جگہ اللہ تعالی نے ان اعضاء کے صرف ایک نمائندہ یعنی جلد ہونے کی حیثیت سے کیا گیا ہے کو لے لیا ہے کیونکہ جلد ان سب چیزوں کو ڈھانپتی ہے۔ جلد کان پر بھی ہوتی ہے ، جلد زبان پر بھی ہوتی ہے، جلد آنکھوں پر بھی ہوتی ہے، جلد پیروں پر بھی ہوتی ہے ، جلد ہاتھوں پر بھی ہوتی ہے۔ پس چونکہ جلد نمائندہ ہے تمام اعضاء کا اس لئے یہاں صرف جلد کا لفظ رکھا گیا ہے۔ بہر حال جب وہ یہ کہیں گے تو ان اعضاء کا نمائندہ آگے سے یہ جواب دیگا کہ بھئی! ہم کوئی اپنے اختیار سے بولے ہیں ؟ یہ ریکارڈر آپ ہی نہیں بجا کرتے بلکہ مالک جب سوئی رکھتا ہے اور اس کو بجانا چاہتا ہے تب بجتے ہیں۔ اُس نے جب سوئی رکھ دی تو ہم کیا کریں پھر تو ہم نے بجنا تھا۔ سے عالم روحان کا ایک اور خوشک قانون و کو کم از کم اتنی تسلی ہو گئی کہ ریکار ڈر نے آپ ہی نہیں بجنا، بجانے والا بھجوائے گا تو بجے گا۔ اب دیکھئے بجوانے والا بجواتا ہے یا نہیں اور کوئی عزت رہ جاتی ہے کہ نہیں ؟ سو اس کے متعلق قاعدہ دیکھا تو یہ قاعدہ نکلا کہ یوم يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ذَلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ وَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَ يَعْمَلْ صَالِحًا يُكَفِّرُ عَنْهُ سَيَّاتِهِ وَ يُدْخِلْهُ جَنَّتِ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ خَلِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ 18 جس دن ہم ان سب لوگوں کو جمع کریں گے اور وہ دن ایسا ہو گا جب ایک دوسرے پر اُس کی غلطیوں کا الزام لگایا جائے گا (تغابن کے معنے ہیں وہ کہے گا اس نے فساد کئے ہیں یہ کہے گا