انوارالعلوم (جلد 25) — Page 54
انوار العلوم جلد 25 54 سیر روحانی (8) نیک لوگوں کو بھی فیصلہ کی نقلیں دی جائیں گی اسی طرح فرماتا ہے کہ جو نیک کام کرنے والے ہیں اُن کو بھی ڈائریوں اور اُن کے فیصلہ کی نقل دی جائے گی چنانچہ فرماتا ہے فَاما مَنْ أُوتِيَ كِتْبَهُ بِيَبِيْنِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَبِيَهُ إِنِّي ظَنَنْتُ أَنِّي مُلقِ حِسَابِيَة - 1 یعنی جو نیک لوگ ہونگے اُن کو بھی فوراً کاپی دیدی جائیگی لیکن اُن کے دائیں ہاتھوں میں کاپی دی جائے گی اور جب وہ اُس کو پڑھیں گے تو اُس میں اُن کے اعمالنامہ کو ایسا خو بصورت کر کے دکھایا ہو گا اور وہ ایسے اچھے ٹائپ پر لکھا ہو گا کہ کہیں گے هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتْبِيَهُ۔ارے بھائی! ادھر آنا ذرا پڑھو تو سہی یہ کیا لکھا ہوا ہے۔جب کسی شخص کو کوئی انعام ملتا ہے تو وہ لازمی طور پر دوسرے لوگوں کو بھی اُس میں شامل کرنا چاہتا ہے۔پس هَاؤُمُ اقْرَووا کتبیة میں نقشہ کھینچ دیا گیا ہے کہ وہ فخر کر کے لوگوں کو بلائے گا اور کہے گا آؤ میاں! آؤ! ذرا دیکھو میرے اعمال کیا ہیں۔اِنِّی ظَنَنْتُ أَنِّي مُلقِ حِسَابِيَة - مجھے تو پہلے سے ہی یہ امید تھی کہ اللہ تعالیٰ کسی کا حق نہیں مارتا۔میں نے جو نیک کام کئے ہیں مجھے ان کا ضرور بدلہ ملے گا، سو اُمیدوں سے بڑھ کر ملا۔دنیوی حکومتوں کے نظام میں مختلف نقائص دیکھو دفاتر اور ڈائریوں کا ایسا مکمل اور بے اعتراض نظام دنیا کی مہذب سے مہذب حکومت میں بھی نہیں ہو تا۔دُنیوی حکومتوں نے تو حال میں یہ ڈائری نویسی کے انتظام شروع کئے ہیں۔چنانچہ ڈائری نویسی کے انتظام کا کوئی ہزار پندرہ سو سال سے پتہ لگتا ہے اس سے پہلے نہیں بلکہ صرف ہزار سال کے قریب ہی عرصہ ہوا ہے۔لیکن قرآنی حکومت نے تیرہ سو سال پہلے اس کا مکمل نقشہ کھینچا ہے کہ ڈائری ہونی چاہئے ، ڈائری نویس کی صداقت کا ثبوت ہونا چاہئے اور مجسٹریٹ کو پتہ ہونا چاہئے کہ سچائی کیا ہے؟ یہ تین چیزیں جمع ہوں تب سزا کے متعلق یہ تسلی ہو سکتی ہے کہ سز ا ٹھیک ہے۔ہمارے ہاں اول تو ڈائری نویس جھوٹا بھی ہوتا ہے اور سچا بھی ہوتا ہے۔پھر اس کی تصدیق کرنے والے کوئی نہیں ہوتے بلکہ بنائے جاتے ہیں۔تیسرے مجسٹریٹ