انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 45

انوار العلوم جلد 25 45 سیر روحانی (8) کو کس طرح کہیں گے کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے۔جو کچھ پولیس مین نے کہا تھا جب آنکھوں نے بھی اُس کے ساتھ گواہی دی، جب کانوں اور ہاتھوں وغیرہ نے بھی اس کے ساتھ گواہی دی تو ڈائری نویس کی جان میں جان آگئی اور اُس نے کہا کہ کروڑوں آدمیوں کے سامنے مجھے مجھوٹا بنایا گیا تھا اب میری براءت ہو گئی کہ اپنے ہاتھوں اور اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں نے بھی اس کی گواہی دے دی اور میں شرمندہ اور ذلیل ہونے سے بچ گیا۔دیکھو یہ ڈائری کتنی مکمل ڈائری ہے اس کے مقابل میں دنیا کی ڈائری کے جو انتظامات ہیں وہ کتنے ناقص ہیں۔قرآن کی ڈائری سُبْحَانَ الله ! ایسی ڈائری پر تو کوئی شبہ کیا ہی نہیں جاسکتا۔گواہی میں دماغ کو کیوں شامل نہیں کیا گیا؟ یہاں کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ دماغ کو کیوں شامل نہیں کیا گیا حالانکہ بہت سے گناہ تو دماغ سے ہوتے ہیں، ہاتھ پاؤں وغیر ہ ثانوی حیثیت رکھتے ہیں اور پھر بسا اوقات دماغی گناہ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے کرنے کا ہاتھ پاؤں کو موقع نہیں ملتا۔تو اس کے متعلق یہ امر یا درکھنا چاہئے کہ اسلامی حکومت میں یہ قانون ہے کہ جو چیز دماغ میں آتی ہے لیکن اُس پر عمل نہیں کیا جاتا وہ بدی نہیں گئی جاتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی بدی کا خیال کرتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کرتا تو اس کے نامہ اعمال میں وہ ایک نیکی کی صورت میں لکھی جاتی ہے۔10 پس دماغ کو اس لئے شامل نہیں کیا کہ اگر تو ہاتھ دماغ کے مطابق عمل کر چکے ہیں تو ہاتھ کی بات بیان ہو چکی، اگر زبان دماغ کے مطابق عمل کر چکی ہے تو زبان کی بات بیان ہو چکی، اگر دماغ نے یہ کہا تھا کہ بدی کی بات سنو تو کان بیان کر چکے کہ اس نے فلاں بات سنی تھی، اگر دماغ نے کہا تھا کہ چوری کرو تو پیروں نے بتادیا کہ وہ فلاں کے گھر میں چوری کے لئے گئے تھے لیکن اگر دماغ میں ایک بات آئی اور ہاتھ پاؤں سے اُس نے عمل نہیں کروایا تو پھر اسلامی اصول کے ماتحت اس کے نام ایک نیکی لکھی جائے گی کہ اس کے دل