انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 46

انوار العلوم جلد 25 46 سیر روحانی (8) میں بُر اخیال بھی آیا لیکن پھر بھی اس نے اُس پر عمل نہیں کیا۔تو چونکہ وہ ایک نیکی لکھی گئی اس لئے اس کو اس کی شرمندگی والی باتوں میں بیان نہیں کیا جائے گا کیونکہ ایک طرف خدا کا اس کو نیکی قرار دینا اور دوسری طرف اس کو باعث فضیحت بنانا یہ خدا کے انصاف کے خلاف ہے۔اگر تو وہ اس کو بدی قرار دیتا تو پھر بیشک اس کو فضیحت کی جگہ پر استعمال کر سکتا تھا لیکن اس نے تو خود فیصلہ کر دیا کہ دماغ کے خیال کو نیکی تصور کیا جائے گا اور جب نیکی تصور ہو گی تو اب اُس کو فضیحت کا ذریعہ نہیں بنایا جاسکتا تھا۔پس معلوم ہوا کہ ہماری روحانی ڈائری میں بڑے سے بڑے مجرم کو بھی کچھ پردہ پوشی کا حق دے کر اُس کی عزت کی حفاظت کی جائیگی۔ریکارڈ کی غرض محض مجرموں پر اتمام محبت یہ دفتر کتنا مکمل اور کتنا شاندار ہے مگر اسی ہو گی ورنہ عالم الغیب خدا سب کچھ جانتا ہے پر بس نہیں۔اس طرح تمام قسم کی محبت پوری کرنے کے بعد فرمایا کہ دیکھو میاں یہ خیال نہ کر لینا کہ ڈائری نویس کی ڈائری کے مطابق تمہیں مجرم بنا دیا جاتا ہے، یہ نہ سمجھ لینا کہ اس ریکارڈ کے مطابق تمہیں مجرم قرار دیا جاتا ہے، ہم تو تمہیں مذہب کے ذریعہ یہ کہا کرتے تھے کہ ہم عالم الغیب ہیں پھر ہم کو عالم الغیب ہونے کے لحاظ سے اس ڈائری کی کیا ضرورت تھی اور اس ریکارڈ کی کیا حاجت تھی ہم تو سب کچھ جانتے تھے۔اس کی ضرورت محض اس لئے تھی کہ تم پر محبت ہو جائے ورنہ ہمیں فرشتوں کو ڈائری لکھنے پر مقرر کر نیکی ضرورت نہیں تھی، ہمیں کسی ریکارڈ کی ضرورت نہیں تھی۔ہمیں یہ ضرورت تھی کہ یہ تمہارے سامنے پیش ہوں اور تمہیں پتہ لگ جائے کہ ہم بلا وجہ سزا نہیں دیتے بلکہ پوری طرح حجت قائم کر کے دیتے ہیں چنانچہ فرماتا ہے۔اِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَمَا يَخْفَى 11 اللہ تعالیٰ تمام باتیں جو ظاہر ہیں اور مخفی ہیں ان کو جانتا ہے۔اس کو نہ کسی فرشتہ کے ریکارڈ کی ضرورت ہے نہ کر اما کاتبین کی ضرورت ہے نہ ہاتھ پاؤں کی گواہی کی ضرورت ہے اس کے علم میں ساری باتیں ہیں۔