انوارالعلوم (جلد 25) — Page 507
انوار العلوم جلد 25 507 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات پھر کر سی دی تب بھی آپ نہ بیٹھے اور ایک ایسی جگہ جاکر بیٹھ گئے جہاں بوٹ وغیرہ رکھے جاتے ہیں۔کہنے لگے میں تمہیں ایک قصہ سناؤں۔میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا صحابی ہوں۔میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ملنے کے لئے آیا۔آپ مسجد مبارک میں بیٹھے تھے اور دروازہ کے پاس جو تیاں پڑی تھیں۔ایک آدمی سیدھے سادے کپڑوں والا آ گیا اور آکر جوتیوں میں بیٹھ گیا۔میں نے سمجھا یہ کوئی جوتی چور ہے۔چنانچہ میں نے اپنی جوتیوں کی نگرانی شروع کر دی کہ کہیں وہ لے کر بھاگ نہ جائے۔کہنے لگے اس کے کچھ عرصہ بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہو گئے اور میں نے سنا کہ آپ کی جگہ اور شخص خلیفہ بن گیا ہے۔اس پر میں بیعت کرنے کے لئے آیا۔جب میں نے بیعت کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ وہی شخص تھا جس کو میں نے اپنی بیوقوفی سے بھوتی چور سمجھا تھا یعنی حضرت خلیفہ اول۔اور میں اپنے دل میں سخت شرمندہ ہوا۔آپ کی عادت تھی کہ آپ جو تیوں میں آکر بیٹھ جاتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام آواز دیتے تو آپ ذرا آگے آجاتے۔پھر جب کہتے مولوی نور الدین صاحب نہیں آئے ؟ تو پھر کچھ اور آگے آجاتے۔اس طرح بار بار کہنے کے بعد کہیں وہ آگے آتے تھے۔یہ قصہ سنا کر میں نے انہیں کہا میاں! آپ کے باپ نے جوتیوں میں بیٹھ بیٹھ کے خلافت لی تھی لیکن تم زور سے لینا چاہتے ہو۔اس طرح کام نہیں بنے گا۔تم اپنے باپ کی طرح جو تیوں میں بیٹھو اور اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل طلب کرو۔اس پر وہ چپ کر گیا اور میری اس بات کا اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ہم نے خود حضرت خلیفہ اول کو دیکھا ہے۔آپ مجلس میں بڑی مسکنت سے بیٹھا کرتے تھے۔ایک دفعہ مجلس میں شادیوں کا ذکر ہو رہا تھا، ڈپٹی محمد شریف صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی ہیں سناتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول اکڑوں بیٹھے ہوئے تھے یعنی آپ نے اپنے گھٹنے اٹھائے ہوئے تھے اور سر جھکا کر گھٹنوں میں رکھا ہوا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا مولوی صاحب! جماعت کے بڑھنے کا ایک ذریعہ کثرتِ اولاد بھی ہے اس لئے میرا خیال ہے کہ اگر جماعت کے